Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
454 - 1040
حدیث نمبر454
روایت ہے حضرت ابی درداء سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا جو کوئی زمین مع اس کے جزیہ کے لے لے ۱؎ تو اس نے اپنی ہجرت ختم کردی ۲؎ اور جس نے کسی کافر کی ذلت اس کی گردن سے نکال کر اپنی گردن میں ڈال لی تو اس نے اسلام سے پیٹھ پھیرلی ۳؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یہاں جزیہ سے مراد زمین کا ٹیکس ہے جو کفار مالکوں پر لازم ہوتا ہے جسے خراج کہتے ہیں۔مسلمان پر عشر واجب ہوتا ہے عشروخراج کا تفصیلی فرق کتب فقہ میں ملاحظہ فرمایئے۔

۲؎  یعنی اس نے اپنی ہجرت کی عزت ختم کردی کہ یہ مہاجر غازی تھا یہ تو کفار سے خراج وصول کرنے والوں میں سے ہوتا چہ جائیکہ اب خود ہی خراج ادا کرے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ خراجی زمین مسلمان کی ملک میں آکر بھی خراجی ہی رہتی ہے عشری نہیں بن جاتی،یہ ہی امام اعظم قدس سرہ کا مذہب ہے،امام شافعی کے ہاں اس مسئلہ کی بہت تفصیل ہے،یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے۔خیال رہے کہ اگر کافر کسی مسلمان سے عشری زمین خریدے تو وہ زمین کافر کے پاس پہنچ کر بجائے عشری کے خراجی بن جاتی ہے لیکن زمین ایک بار خراجی بن جائے وہ ہمیشہ خراجی رہتی ہے خواہ کافر کے پاس رہے یا مسلمان کے پاس آجائے۔

۳؎  یہ جملہ پچھلے جملہ کی تفصیل ہے اور یہاں ذلت سے مراد وہ ہی ادائے خراج ہے جو اب اس مسلمان کو ادا کرنا پڑے گا۔غور کرو کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اپنی امت کی کیسی عزت چاہتے ہیں۔افسوس ہے ان مسلمانوں پر جو آج اندھا دھند عیسائیوں،انگریزوں کی ہر ادا کو پسند کرتے ہیں،ان کے نقال بنتے ہیں،کفار ذلیل ان کی ہر ادا ذلت و خواری ہے ان کا نقال خود انکی ذلت اپنے گلے میں ڈالتا ہے۔
Flag Counter