Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
453 - 1040
حدیث نمبر453
روایت ہے حضرت ابن ابی لیلی سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ نے خبر دی ۲؎ کہ وہ حضرات رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ جارہے تھے ۳؎  ان میں سے ایک صاحب سو گئے تو ان میں سے بعض صحابی اپنی رسی کی طرف چلے اسے پکڑ لیا جس سے وہ گھبرا گئے ۴؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ کسی مسلمان کو ڈرائے ۵؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎  آپ کا نام عبدالرحمن ابن قاسم ابن ابی لیلی یسار انصاری ہے،تابعی ہیں،ایک سو بیس صحابہ سے ملاقات ہے، جب حضرت عمر کی حیات شریف کے چھ سال باقی تھے آپ پیدا ہوئے،   ۸۲ھ؁ میں وفات پائی،آپ کے بیٹے محمد ابن عبدالرحمن کو بھی اسی نام ابن لیلی سے یاد کیا جاتا ہے جو کوفہ کے فقیہ قاضی تھے مگر جب ابن ابی لیلی مطلقًا بولا جاتا ہے تو آپ یعنی عبدالرحمن ہی مراد ہوتے ہیں۔

۲؎  چونکہ حضرات صحابہ تمام ہی عادل ہیں کوئی فاسق نہیں اس لیے ان کے نام معلوم نہ ہونا حدیث کی صحت کے لیے مضر نہیں یعنی ہم کو بہت صحابہ کرام نے یہ خبر دی ہے۔

۳؎ مشکوۃ شریف کےبعض نسخوں میں یسرون ہے سریٰ بمعنی رات میں چلنا،رب تعالٰی فرماتاہے:"سُبْحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ"عام نسخوں میں یسیرون ہے سیر سے مشتق بمعنی چلنا اور جانا،رب تعالٰی فرماتاہے:" قُلْ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرْضِ"غالب یہ ہے کہ یہ سفر کسی جہاد کے لیے تھا۔

۴؎ یعنی اس سونے والے کے پاس رہی تھی یا اس جانے والے کے پاس تھی اس نے یہ رسی سانپ کی طرح اس پر ڈالی وہ سونے والے اسے سانپ سمجھ کر ڈر گئے اور لوگ ہنس پڑے۔

۵؎ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ سنا تو یہ فرمایا۔اس فرمان عالی کا مقصد یہ ہے کہ ہنسی مذاق میں کسی کو ڈرانا جائز نہیں کہ کبھی اس سے ڈرنے والا مرجاتا ہے یا بیمار پڑ جاتا ہے،خوش طبعی وہ چاہیے جس سے سب کا دل خوش ہوجائے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایسی دل لگی ہنسی کسی سے کرنی جس سے اس کو تکلیف پہنچے مثلًا کسی کو بے وقوف بنانا اس کے چپت لگانا وغیرہ حرام ہے۔
Flag Counter