Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
452 - 1040
حدیث نمبر452
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی اس مسلمان آدمی کا خون حلال نہیں جو گواہی دیتا ہو کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضور محمد مصطفے اﷲ کے رسول ہیں ۱؎ مگر تین جرموں میں سے ایک کی وجہ سے نکاح کے بعد زنا کہ وہ سنگسار کیا جائے گا ۲؎ اور وہ شخص جو اﷲ و رسول سے جنگ کرنے نکلا۳؎ وہ یا قتل کیا جائے گا یا سولی دیا جائے گا یا زمین سے نکال دیا جائے گا۴؎ یا کسی جان کو قتل کردے تو اس کے عوض قتل کیا جائے ۵؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ اس کلمہ خوانی سے مراد تمام عقائد اسلامیہ کا ماننا ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ نماز میں الحمدﷲ پڑھنا واجب ہے یعنی پوری سورۃ ولا الضالین تک پڑھنا واجب ہے ورنہ صرف کلمہ تو قادیانی ،چکڑالوی اور تمام باطل فرقے بھی پڑھتے ہیں۔

۲؎ یہاں احصان کے معنی ہیں آزاد بالغ مسلمان کا صحیح نکاح کے ذریعہ صحبت کرلینا یہ رجم کے لیے شرط ہے لہذا کافر اور نابالغ اور غلام اور کنوارے زانی کو سنگسار نہیں کیا جاسکتا،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا بعض یہود کو زنا کی بنا پر سنگسار کرانا ان پر توریت کا حکم جاری فرمانے کے لیے تھا نہ کہ اسلامی حکم کی بنا پر۔

۳؎ اس سے مراد ڈاکو ہیں یا باغی،رب تعالٰی ڈاکوؤں کے متعلق فرماتاہے:"الَّذِیۡنَ یُحَارِبُوۡنَ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الۡاَرْضِ فَسَادًا"۔

۴؎ اگر ڈاکو صرف قتل کرے کسی کا مال نہ لے تو قتل کیا جائے گا اور اگر قتل بھی کرے مال بھی لوٹے تو سولی دیا جائے گا اور اگر صرف مال لوٹے قتل نہ کرے تو دیس نکالے کی سزا دی جائے گی یعنی کالا پانی یا آج پاکستان میں کالا باغ۔بعض نے فرمایا کہ اگر ڈاکو قتل و لوٹ نہ کرسکے صرف لوگوں کو ڈراتا دھمکاتا راستہ روکتا پکڑا جائے تو اس کو کسی شہر یا گاؤں میں ٹھہرنے  نہ دیا جائے گا یوں ہی آوارہ گرد رکھا جائے گا حتی کہ مرجائے یا صحیح توبہ کرلے،بعض نے فرمایا کہ امام کو ان چاروں سزاؤں کا اختیار ہے ان میں سے جو چاہے دے۔(مرقات واشعہ)

۵؎ یہاں قتل سے مراد قتل عمد ہے کیونکہ قصاص صرف قتل  عمد میں ہے قتل خطاء یا قتل شبہ عمد میں قصاص نہیں صرف دیت ہے جیساکہ گزر چکا۔
Flag Counter