| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے اور انس ابن مالک سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا میری امت میں بڑا اختلاف وافتراق و جدائی ہوگا ۱؎ ایک قوم ہوگی جو کلام اچھا کرے گی اور کام برے کرے گی ۲؎ وہ لوگ قرآن پڑھیں گے ان کے گلے سے نیچے نہ اترے گا ۳؎ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے واپس نہ ہوں گے ۴؎ حتی کہ تیر اپنے چلہ پر لوٹ آئے ۵؎ وہ تمام انسانوں اور تمام مخلوق میں بدتر ہیں ۶؎ خوشخبری ہے اسے جو ان لوگوں کو قتل کرے اور اسے جن کو وہ لوگ قتل کریں ۷؎ کتاب اﷲ کی طرف دعوت دیں گے ۸؎ وہ کسی بات میں ہمارے نہیں ۹؎ اور جو انہیں قتل کرے وہ بقیہ لوگوں میں سے زیادہ قریب الی اﷲ ہوگا ۱۰؎ لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ان کی نشانی کیا ہے فرمایا سر منڈانا ۱۱؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ اختلاف سے مراد خیالات کا جدا ہونا ہے اور افتراق سے مراد جسمانی جدائی یعنی جنگ و جدال،کشت و خون یعنی میری امت میں رائے کا اختلاف بھی ہوگا اور جنگ و جدال بھی،رائے کے اختلاف میں عقائد کا اختلاف بھی داخل ہے جیسے اسلام کے بہتر فرقوں کا اختلاف اور صرف رائے کا اختلاف بھی داخل ہے جیسے حضرت علی معاویہ یا حضرت عائشہ و علی کا اختلاف رضی اللہ عنہم اجمعین۔خیال رہے کہ جب حضرت علی و امیر معاویہ نے جنگ بند کرنے کے لیے دو حَکم مقرر کرلیے:حضرت ابو موسیٰ اور عمرو ابن عاص تو حضرت علی کی فوج میں سے دس ہزار آدمیوں نے سرکشی کردی بولے کہ علی اورمعاویہ دونوں مشرک ہوگئے کیونکہ انہوں نے ماسوی اﷲ کو حَکم مان لیا،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلہِ"حضرت علی نے ان کی فہمائش کے لیے حضرت عبداﷲ ابن عباس کو بھیجا آپ نے ان کے اعتراض کے جواب میں فرمایا کہ رب تعالٰی زوجین کے اختلاف کے متعلق فرماتاہے:"فَابْعَثُوۡا حَکَمًا مِّنْ اَہۡلِہٖ وَحَکَمًا مِّنْ اَہۡلِہَا"جب لڑنے والے زوجین اپنے اختلاف کو مٹانے کے لیے پنچ وحَکم مقرر کرسکتے ہیں تو اگر علی و معاویہ نے حَکم مقرر کرلیے تو کیوں شرک ہوا،اس جواب پر پانچ ہزار خارجی توبہ کر گئے پانچ ہار ضد پر اڑے رہے جو ذوالفقار حیدری سے جہنم میں پہنچے،اس حدیث کا ظہور اس طرح ہوا۔یہ شرک شرک کا سبق آج کا نہیں بڑا پرانا ہے وہی پُرانا سبق آج وہابی پڑھ رہے ہیں۔ ۲؎ قوم یوجد پوشیدہ کا نائب فاعل ہے یا یکون پوشیدہ کا فاعل ہے قیل اور قول دونوں کے معنے ہیں کلام و گفتگو،قرآن کریم فرماتاہے:"وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ قِیۡلًا"یعنی باتیں بہت اچھی کریں گے ہر وقت قال اﷲ وقال الرسول ان کی زبان پر ہوگا مگر عقائدواعمال بہت گندے ہوں گے،اس میں اشارہ خارجی فرقہ کی طرف ہے۔فقیر نے اس بار چوتھے حج کے موقعہ پرمسجد نبوی شریف میں خارجی دیکھے،بڑے نمازی بڑے پرہیزگار معلوم ہوتے ہیں۔ ۳؎ یعنی ان کے دل نور قرآنی سے روشن نہ ہوں گے یا ان کی تلاوت بارگاہ الٰہی میں قبول نہ ہوگی کیونکہ وہ صرف لوگوں کو پھانسنے کے لیے قرآن پڑھیں گے۔تراقی ترقوۃ کی جمع ہے بروزن فعلوت بمعنی گھانٹی، فارسی میں حنجرہ کہتے ہیں۔آج بھی نجدی وہابی ہر ایک کو قرآن کی طرف بلاتے ہیں،اپنی جماعتوں کتابوں کے نام تک قرآن پر رکھے ہیں اشاعۃ القرآن،تعلیم القرآن،ان کے اکثر علماءومبلغین سر منڈے ہوتے ہیں۔ ۴؎ یعنی پہلے وہ مسلمان ہوں گے بعد میں اسلام سے ایسے نکلیں گے ان میں اسلام کا کوئی اثرونشان نہ باقی رہے گا جیسے تیر شکار میں سے کہ شکار کے جسم میں داخل ہوکر نکل جاتا ہے مگر اس میں گوشت،خون،گوبر،پیشاب وغیرہ کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ ۵؎ یعنی جیسے کمان سے نکلا ہوا تیر کمان پر واپس نہیں آتا آگے ہی کو جاتا ہے ایسے ہی یہ لوگ اسلام میں واپس نہیں آئیں گے اس کی آزمائش بھی ہوچکی کہ جو پختہ خارجی ہوگئے تھے وہ شمشیر حیدری سے تہ تیغ ہوئے بقیہ تتر بتر ہوگئے مگر دوبارہ اسلام میں نہ آئے۔جو پانچ ہزار حضرت ابن عباس کا وعظ سن کر بولے وہ خارجی پختہ نہ ہوئے تھے بلکہ خوارج کے بہکانے سے وہم و شبہات میں پڑگئے تھے لہذا یہ حدیث بالکل واضح ہے۔ ۶؎ یا تو خلق سے مراد انسان اور خلیقہ سے مراد جانور ہیں یا دونوں ہم معنے ہیں تاکیدًا دو لفظ ارشاد ہوئے۔ معلوم ہوا کہ بے دین تمام مخلوق سے بدتر ہے حتی کہ کتے سور گدھے سے بھی،رب تعالٰی فرماتاہے:"اُولٰٓئِکَ ہُمْ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ"جیسے کہ مؤمن کامل تمام مخلوق حتی کہ فرشتوں سے بھی اعلیٰ ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اُولٰٓئِکَ ہُمْ خَیۡرُ الْبَرِیَّۃِ"۔ ۷؎ یعنی جو مسلمان ان خوارج کو قتل کرے وہ بہترین غازی ہے اور جو جنگ میں ان کے ہاتھوں شہید ہو وہ اعلیٰ درجہ کا شہید ہے۔ ۸؎ یعنی یا تو حدیث کے منکر ہوں گے صرف قرآن کو ماننے کے مدعی ہوں گے یا اگرچہ دعویٰ تو کریں گے حدیث ماننے کا بھی مگر ہر وقت پڑھیں گے قرآن ہی اور ہر ایک کو قرآن کے نام پر بلائیں گے جیسے اس زمانے کے کچھ وہابی دیوبندی جو قرآن قرآن کی رٹ لگاتے ہیں۔ ۹؎ یعنی ان کو ہم سے اور ہم کو ان سے کوئی تعلق نہیں اور ظاہر ہے کہ جس کا تعلق حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے ٹوٹ جائے وہ قرآن یا نماز وغیرہ کے ذریعہ مسلمان نہیں ہوسکتا۔فسٹ کلاس کا ڈبہ بغیر انجن سے تعلق رکھے سفر نہیں کرسکتا نہ اس کی کچھ قدروقیمت ہے نہ اس میں کوئی مسافر بیٹھتا ہے،قدرو قیمت تو انجن کے ساتھ مل جانے کی ہے۔ ۱۰؎ یعنی دوسرے مسلمانوں سے یہ زیادہ مقبول ہوگا۔ ۱۱؎ یعنی بہت زیادہ سرمنڈانا اور سرمنڈانے کا عادی ہونا ورنہ حج میں قریبًا سارے حاجی سرمنڈاتے ہیں،بعض بزرگوں کو دیکھا گیا کہ وہ سرمنڈانے کی عادت کو برا سمجھتے ہیں ان کا ماخذ یہ ہی حدیث ہے۔