| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن عبداﷲ سے ۱؎ وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے حضور قضا حاجت کے لیے تشریف لے گئے ۲؎ ہم نے ایک لالی دیکھی جس کے ساتھ دو چوزے تھے ہم نے اس کے چوزے پکڑ لیے ۳؎ کہ لالی آئی تو وہ بچھی جانے لگے ۴؎ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے فرمایا اسے کس نے غمگین کیا اس کے بچوں کی وجہ سے اس کے بچے اسے لوٹا دو ۵؎ اور ایک چیونٹیوں کا جنگل دیکھا جسے ہم نے جلادیا تھا ۶؎ فرمایا یہ کس نے جلایا ہم نے عرض کیا ہم نے فرمایا یہ لائق نہیں کہ آگ کے رب کے سواء کوئی اور آگ سے عذاب دے ۷؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ آپ عبدالرحمن ابن عبداﷲ ابن مسعود ہیں۔(اشعہ)مرقات نے عبدالرحمان ابن عبداﷲ ابن بحار فرمایا،آپ تابعی ہیں،عبدالرحمن کی ملاقات اپنے والد سے نہیں ہوئی کیونکہ ان کے والد آپ کے لڑکپن ہی میں فوت ہوگئے تھے،عبدالرحمن ۹۹ھ میں سلیمان ابن عبدالملک کے زمانہ میں فوت ہوئے۔ ۲؎ استنجاء کے لیے جنگل میں تشریف لے گئے لوگوں سے بہت دور۔ ۳؎ لالی کی غیر موجودگی میں اس کے بچے پکڑ لیے جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔ ۴؎ اس طرح کہ زمین کے قریب آکر پر پھیلا کر گرنے لگی اپنے بچوں کے فراق میں یا ہمارے سروں پر بچھی جانے لگی اسے پتہ چل گیا کہ میرے بچے ان کے پاس ہیں۔ ۵؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ امر وجوبی ہے کیونکہ بلافائدہ شکاری جانور کے بچے پکڑ کر اس کی ماں کو دکھ دینا منع ہے مگر مرقات نے فرمایا کہ یہ حکم استحبابی ہے شکاری جانور کے بچوں کا شکار جائز ہے۔فقیر کہتا ہے کہ بلا ضرورت شکار ممنوع ہے ہاں ضرورتًا جائز،ضرورت سے مراد گوشت کھانا یا ان کا ضرر دفع کرنا۔ ۶؎ کہ ایک جگہ چیونٹیاں بہت تھیں ہم نے اس جگہ آگ بچھادی جس سے وہ جگہ ہی جل گئی۔ ۷؎ اس سے معلوم ہوا کہ ہر وقت سب کو حضور کے فیض کی ضرورت ہے،دیکھو کچھ دیر کے لیے حضور غائب ہوئے تھے کہ ان حضرات سے دو غلطیاں ہوگئیں۔