۱؎ یعنی اگر کسی مرد کی نظر اجنبی عورت کے حسن و جمال یا زیور و لباس پر اچانک پڑ جائے اس کا دل چاہے کہ دیکھتا رہے مگر خوف خدا سے دل کو مارے نگاہ نیچی کرے۔
۲؎ یعنی اس صبر اور دل کو ر وکنے کی برکت سے خدا تعالٰی اسے کسی عبادت کی لذت نصیب فرمائے گا یا نماز کی یا روزے کے یا حج و زیارت کی ۔خیال رہے کہ کھانا وغیرہ کی طرح عبادات میں بھی مختلف لذتیں ہیں جسے محسوس کرنے کے لیے باطنی حواس درست چاہئیں،یہ عمل اس درستی حواس کے لیے بہت ہی مفید ہے رب تعالٰی عمل کی توفیق بخشے اس کا مطلب یہ ہے کہ یا تو رب تعالٰی اسے انہیں عبادتوں میں لذت بخشے گا یا کسی اور نئی عبادت کی توفیق دے گا جیسے جہاد وغیرہ اور پھر اس کی لذت بھی نصیب فرمائے گا۔