۱؎ بعض روایات میں ہے کہ نہ میں نے حضور کی کبھی شرمگاہ دیکھی نہ حضور نے میرا ستر کبھی دیکھا یہ ہے اس سید المحبوبین کی شرم و حیاء۔خیال رہے کہ زوجین ایک دوسرے کے شرمگاہ دیکھ سکتے ہیں یہ دیکھنا زیادتی شہوت کا باعث ہے اس میں شرعًا کچھ حرج نہیں مگر اس سے نگاہ کمزور ہوتی ہے نیز یہ عمل اعلیٰ قسم کی شرم کے خلاف ہے اس لیے حضور کا اس پر عمل رہا ۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ بوقت صحبت دونوں کے بالکل ننگے ہونے اور ایک دوسرے کو دیکھ کر صحبت کرنے سے اولاد بے شرم پیدا ہوتی ہے اور صحبت کی حالت میں باتیں کرنے سے اندیشہ ہے کہ اولاد گونگی ہو حضور کے اعمال شریف میں لاکھوں حکمتیں ہیں۔