Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
448 - 1040
حدیث نمبر448
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں قبیلہ عکل کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئے ۱؎ مسلمان ہوگئے انہوں نے مدینہ کو ناموافق محسوس کیا ۲؎ تو انہیں حضور نے حکم دیا کہ صدقہ کے اونٹوں میں جائیں ان کے پیشاب اور دودھ پئیں۳؎  انہوں نے یوں ہی کیا تو تندرست ہوگئے پھر مرتد ہوگئے اور ان کے چرواہوں کو قتل کردیا اور اونٹ ہانک لے گئے ۴؎ پھر حضور نے ان کے پیچھے سپاہی بھیجے ۵؎ وہ لوگ لائے گئے پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دی گئیں ۶؎ پھر ان کو نہ داغا حتی کہ وہ مرگئے ۷؎ اور ایک روایت میں ہے پھر ان کی آنکھیں اندھی کردی گئیں ۸؎  اور ایک روایت میں ہے کہ سلائیوں کا حکم دیا وہ گرم کی گئیں پھر وہ ان کی آنکھوں میں پھیر دیں ۹؎ اور انہیں حرہ میں ڈال دیا پانی مانگتے تھے تو نہ پلائے جاتے تھے حتی کہ مرگئے ۱۰؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ نفر تین سے لے کر دس تک کو کہتے ہیں،یہ لوگ آٹھ آدمی تھے۔(مرقات)اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ سات آدمی تھے چار تو قبیلہ عرینہ کے اور تین قبیلہ عکل کے،اسی لیے بعض احادیث میں ہے کہ عرینہ کے تھے،بعض میں ہے کہ عکل کے تھے،یہ دونوں روایات درست ہیں کہ وہ دونوں قبیلوں کے تھے۔

۲؎ اجتوا بناہے جواء سے بمعنی مرض و بیماری یعنی ان کو مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی اور بیمار ہوگئے۔اصل میں مدینہ منورہ کی سرزمین نے ان کو نکالنا چاہا تھا ورنہ مدینہ پاک کی سی آب و ہوا روئے زمین میں کسی جگہ نہیں۔

۳؎ چونکہ یہ لوگ مسافر بھی تھے غریب و مسکین بھی اس لیے ان کو صدقہ کے اونٹ کے دودھ پینے کی اجازت دے دی گئی اور چونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بذریعہ وحی معلوم فرمالیا تھا کہ ان کی شفا اس دودھ و پیشاب میں ہے اس لیے انہیں پیشاب پینے کی اجازت دے دی گئی۔اس حدیث کی بنا پر امام مالک اور امام محمد رحمۃ اﷲ علیہما نے فرمایا کہ حلال جانوروں کے پیشاب پاک ہیں مگر قوی یہ ہے کہ ناپاک ہیں۔سرکار فرماتے ہیں کہ پیشاب کی چھینٹوں سے بچو کہ عمومًا عذاب قبر اس سے ہوتا ہے،یہ ارشاد عالی ایک اونٹ کے چرواہے کے متعلق ہوا تھا۔بعض علماء نے فرمایا کہ دواءً نجس یا شراب پینا جائز ہے مگر حق یہ ہے کہ ناجائز ہے کیونکہ ان کی حرمت تو یقینی ہے مگر ہمارے لیے ان سے شفا یقینی نہیں،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے تو ان کی شفا بذریعہ وحی یقینًا معلوم فرمالی تھی ہم کو یہ یقین کیسے میسر ہوگا،امام ابویوسف کے نزدیک طبیب حاذق کے کہہ دینے پر جائز ہے،امام شافعی کے ہاں ہر نجاست سے علاج جائز ہے بشرطیکہ نشہ والی نہ ہو مگر قول امام اعظم بہت قوی ہے۔(مرقات و اشعہ)

۴؎  یعنی یہ لوگ مرتد بھی ہوئے ڈاکو بھی قاتل بھی لہذا سخت سزا کے مستحق ہوئے۔

۵؎  صحابہ کی ایک جماعت بھیجی جس میں حضرت علی بھی تھے رضی اللہ عنہم،حضور انور کا سپاہی بننا ملائکہ کے لیے فخر ہے،جنگ بدر میں فرشتے پانچ ہزار اترے یہ سب حضور کے سپاہی تھے۔اﷲ کے لیے مجھے تو حضور اپنے در کا جھاڑو والا بنا کر رکھ لیں۔شعر

پس مردن مری مٹی ٹھکانے خوب لگ جاتی

میسر گر  مجھے دو گز  مدینہ میں  زمیں ہوتی

۶؎ بعض شارحین نے فرمایا کہ سمر اور سمل دونوں کے معنے ہیں آنکھیں بیکارکردینا مگر سمر کے معنے ہیں آنکھ میں لوہے کی گرم سلائی پھیر کر اس کی روشنی ختم کردینا اور سمل کے معنے ہیں سوئے یا میخ سے آنکھ پھوڑ دینا مگر حق یہ ہے کہ دونوں کے ایک ہی معنی ہیں یعنی گرم سلائی پھیرکر روشنی ضائع کردینا۔

۷؎ یعنی ان کے ہاتھ پاؤں کٹواکر ان کے زخموں کو گرم لوہے سے داغ نہ دیا تاکہ خون بند ہوجاتا اور وہ بچ جاتے بلکہ یوں ہی خون بہنے دیا حتی کہ تمام خون نچڑ گیا اور وہ ہلاک ہوگئے۔

۸؎ اس روایت میں سمل لام سے ہے اور اس روایت میں سمر ر سے ہے ہم عرض کرچکے کہ دونوں کے معنے قریبًا ایک ہی ہیں۔

۹؎ حتی کہ ان کی آنکھوں کی روشنی بالکل جاتی رہی۔

۱۰؎ خیال رہے کہ اب شریعت میں مثلہ کرنا یعنی ہاتھ پاؤں کاٹ دینا آنکھیں پھوڑ دینا ممنوع ہے،حضور کا یہ عمل یا تو مثلہ کی ممانعت سے پہلے تھا بعد میں مثلہ سے منع فرمایا یا اس لیے تھا کہ ان لوگوں نے حضور کے چرواہوں کے ساتھ یہ ہی سلوک کیا تھا تو قصاصًا حضور نے بھی ان سے یہ ہی سلوک فرمایا یا اس لیے تھا کہ انہوں نے بہت جرم کیے تھے مرتد ہوجانا،چراہوں کو مار ڈالنا،مال لوٹ لینا وغیرہ لہذا ان کو یہ سزا دی گئی،اگر مجرم کئی قسم کے جرم کرلے تو حاکم تمام قصاصوں کو جمع کرسکتا ہے۔(مرقات)یہاں مرقات نے فرمایا کہ اگر مرتد پیاس سے مررہا ہو اور کسی کے پاس بقدر وضو پانی ہو تو اسے پانی نہ دے بلکہ وضو کرے اور اگر ذمی کافر یا جانور پیاس سے مرر ہا ہو تو وضو نہ کرے اسے پلائے،مرتد کسی رحم کا مستحق نہیں۔خیال رہے کہ اسلام بہت رحمت والا دین ہے اور حضور رحمۃ اللعالمین ہیں،مگر اسلام میں سزائیں بہت سخت ہیں کیونکہ سخت سزا سے ہی جرم بند ہوتے ہیں اور ملک میں امن و امان قائم ہوتا ہے،عرب جیسے ملک میں امن ان ہی سختیوں سے قائم ہوا اور آج ہمارے ملکوں میں امن اس لیے نہیں کہ یہاں سزائیں نرم ہیں ہم کو ا پنے ہاں کی بد امنی دیکھ کر ان سزاؤں کی قدرمعلوم ہوتی ہے کہ آج بازار میں ایک دو چوروں کے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں ایک دو زانیوں کو رجم کردیا جائے تو ان شاءاﷲ ہمارے ہاں بھی عرب جیسا امن ہوسکتا ہے کہ وہاں لوگ شب کو گھروں کے دروازے بند نہیں کرتے،قیمتی دکان کھلی چھوڑکر مسجد میں نماز کے لیے آجاتے ہیں،اسلام کی خوبیاں کفاربھی ماننے لگے ہیں۔
Flag Counter