| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے ۱؎ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا جب دو مسلمان ملیں کہ ان میں سے ایک اپنے بھائی پر ہتھیار اٹھائے ۲؎ تو وہ دونوں دوزخ کے کنارہ میں ہوتے ہیں۳؎ پھر جب ان میں سے ایک اپنے صاحب کو قتل کردیتا ہے تو وہ دونوں دوزخ میں داخل ہوجاتے ہیں۴؎ انہیں سے دوسری روایت میں ہے فرمایا کہ جب دو مسلمان اپنی تلواروں سے مل پڑتے ہیں تو قاتل و مقتول دوزخ میں جاتے ہیں ۵؎ میں نے عرض کیا یہ تو قاتل ہے تو مقتول کا کیا ہے فرمایا وہ اپنے صاحب کے قتل پر حریص تھا ۶؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ آپ کے حالات بیان ہوچکے ہیں کہ آپ کا نام نقیع ابن حارث ہے، آپ غزوہ طائف میں ایمان لائے،آپ اس غزوہ میں گرفتار ہوگئے تھے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کو آزاد فرما دیا۔(مرقات) ۲؎ قتل یا زخمی کرنے کے ارادے سے،پہلے معنی زیادہ قوی ہیں۔ہتھیار سے مراد عام ہتھیار ہے تلوار ہو یا نیزہ یا پستول و بندوق۔خیال رہے کہ احد سے مراد کل واحد ہے یعنی ہر ایک دوسرے کے مقابل ہتھیار اٹھائے۔ ۳؎ یعنی دوزخ کے قریب ہوتے ہیں کہ قتل ہوں یا کریں اور دوزخ میں جائیں۔ ۴؎ یہ جب ہے جب کہ دونوں باطل پر ہوں اور اگر ان میں سے کوئی حق پر ہو تو باطل والا دوزخی ہے نہ کہ حق والا جیسے ڈاکو یا چور کے مقابلہ میں۔ ۵؎ یہ جب ہے جب کہ دونوں ایک دوسرے کے قتل کا ارادہ کریں اگر ان میں سے ایک مدافع ہو کہ دفاعًا دوسرے کو قتل کرے تو حملہ آور دوزخی ہوگا نہ کہ یہ دفاع کرنے والا۔ ۶؎ یعنی یہ بھی ارادۂ قتل سے ہی آیا تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ ارادۂ گناہ بھی گناہ ہے،ہاں خیال گناہ گناہ نہیں لہذا یہ حدیث دوسری احادیث اور آیات قرآنیہ کے خلاف نہیں،چورچوری کرنے نکلا مگر اتفاقًا نہ کرسکا گنہگارہوگیا،فقہاء فرماتے ہیں کہ ارادۂ کفر بھی کفر ہے۔ ۷؎ یہ حدیث ابوداؤدونسائی نے حضرت ابوبکرہ سے اور ابن ماجہ نے حضرت ابو موسیٰ سے روایت کی۔ (مرقات)