۱؎ آپ جریر ابن عبداﷲ بجلی ہیں،بہت حسین و جمیل اور خوش اخلاق تھے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات سے چالیس دن پہلے ایمان لائے پھر کوفہ میں رہے پھر قرقسیا بستی آگئے وہاں ہی ۱۵۰ھ میں وفات پائی،آپ سے اکثر محدثین نے احادیث روایت کیں۔
۲؎ دسویں ذی الحجہ کو آپ نے منٰی شریف کے خطبہ میں یہ فرمایا۔(اشعہ)
۳؎ کافر سے مراد ناشکرا باعمل کافر ہے جو کافروں کے سے کام کرے ورنہ مسلمان کو قتل کرنا سخت حرام ہے مگر کفر نہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اِنۡ طَآئِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ اقْتَتَلُوۡا"دیکھو قتال کرنے والوں کو مؤمنین فرمایا گیا یہاں مرقات نے کفار کی سات توجیہیں فرمائیں۔