Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
445 - 1040
حدیث نمبر445
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے میری امت دو جماعتیں ہو جائے گی ۱؎ تو ان دونوں سے ایک خارجی فرقہ نکل جائے گا ۲؎ اس کے قتل کا اہتمام وہ فرقہ کرےگا جو حق سے قریب ہوگا ۳؎(مسلم)
شرح
۱؎ یہاں دو فرقوں سے مراد مذہبی فرقے نہیں بلکہ سیاسی جماعتیں ہیں۔اس سے اشارہ حضرت علی و معاویہ رضی اللہ عنہما کی جماعتوں کی طرف ہے کہ یہ دونوں مذہبًا مسلکًا ایک تھے ان میں اختلاف سیاسی تھا۔

۲؎  خیال رہے کہ خارجی فرقہ حضرت علی کی جماعت سے نکلا تھا نہ کہ امیر معاویہ کی جماعت سے،پھر بینہما فرمانا تعلیقًا ہے،قرآن کریم فرماتاہے:"یَخْرُجُ مِنْہُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُ"حالانکہ موتی صرف کھاری سمندر سے نکلتے ہیں یا بینہما کا مطلب ہے کہ وہ خارجی فرقہ ان دونوں جماعتوں سے الگ ہو گا کسی کے ساتھ نہ ہوگا۔

۳؎ یعنی خارجی فرقہ کو ان دونوں جماعتوں ہی سے وہ قتل کرے گی جو حق پر ہوگی یا حق تعالٰی سے قریب تر ہو گی۔چنانچہ خارجی فرقہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فوج کے ہاتھوں قتل ہوا یہ لوگ کُل دس ہزار تھے حضرت عبداﷲ ابن عباس کے سمجھانے پر پانچ ہزار نے توبہ کرلی پانچ ہزار ذوالفقار حیدری سے مارے گئے،بہت سے مارے گئے کچھ بچے جو حضر موت اور بحرین میں تتربتر ہوگئے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضرت امیرمعاویہ اور علی دونوں مؤمن صالح ہیں کہ ان دونوں کی جماعت کو حضور نے امتی فرمایا۔ دوسرے یہ کہ اس اختلاف میں حضرت علی امام برحق تھے امیر معاویہ کی جماعت باغی تھی۔تیسرے یہ کہ خارجی ان دونوں جماعتوں سے خارج ہیں بددین گمراہ ہیں واجب القتل ہیں،باغی خارجی کا فرق ہماری کتاب امیر معاویہ میں دیکھئے۔
Flag Counter