Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
444 - 1040
حدیث نمبر444
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ آخر زمانہ میں قوم نکلے ۱؎ گی نو عمر عقل کے ہلکے ۲؎ کلام کریں گے مخلوق کے قول کے بہترین سے۳؎  ان کا ایمان ان کے گلے سے نہ اترے گا۴؎ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے ۵؎ تو تم انہیں جہاں کہیں پاؤ قتل کردو ۶؎ کہ ان کے قتل میں قیامت کے دن ثواب ہے اسے جو انہیں قتل کرے ۷؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ غالبًا آخر زمان سے مراد خلافت راشدہ کا آخری دور ہے اور اس قوم سے مراد خوارج ہیں کیونکہ خوارج حضرت علی کی خلافت میں پیدا ہوئے اور ہوسکتا ہے کہ آخر زمانہ سے مراد قریب قیامت ہو اور اس قوم سے مراد وہابی ہوں کہ ان کا خروج بارہویں صدی میں ہوا،علامہ شامی نے وہابیوں کو خوارج فرمایا ہے یہ بھی قریبًا خوارج ہیں۔

۲؎ یعنی ان میں اکثر نو عمرلڑکے عقل کے کوتاہ ہوں گے حدثاء جمع ہے حدیث کی بمعنی نیا اور سفہاء جمع ہے سفیہ کی بمعنی ہلکا پن یا بے عقلی جیسے صغیر کی جمع صغراء ہے۔

۳؎  یعنی مخلوق جو بہترین کلام بولتی یا پڑھتی ہے وہ کلام کیا کریں گے یعنی قرآن مجید بہت پڑھیں گے ہر ایک کو دعوت قرآن دیں گے۔مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں ہے من قول خیر البریہ اس صورت میں خیر البریہ سے مراد حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہیں اور آپ کے قول سے مراد حدیث شریف وقرآن مجید دونوں ہیں یعنی ہر ایک کو کتاب و سنت کی طرف دعوت دیں گے اور قال اﷲ  قال الرسول ان کی زبان پر رہے گا۔(مرقات)حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ خوارج بدترین خلق ہیں یہ بدنصیب کفار کی آیات مسلمانوں پر چسپاں کرتے ہیں،دیکھو بخاری باب الخوارج اور مرقات یہ ہی مقام۔آج دیوبندیوں وہابیوں کی تقریریں تحریریں دیکھو کہ یہ لوگ ہمیشہ بتوں کی آیات حضرات انبیاء اولیاء پر چسپاں کرتے ہیں اور کفارومشرکین کی آیات مسلمانوں پر پڑھتے ہیں۔

۴؎ یعنی کلمہ اور اسلام ان کے صرف منہ میں ہوگا دل میں کفر اورحضرات انبیاءواولیاء اور تمام مسلمانوں سے عنادوبغض بھرا ہوگا،حناجر جمع ہے حنجرہ کی بمعنی حلقوم۔

۵؎ دین سے مراد اسلام ہے نہ کہ محض طاعت بادشاہ یعنی شکاری کا تیر شکار کے جسم میں داخل ہوکر ایسے نکل جاتا ہے کہ اس میں خون،گوشت،چربی کچھ بھی نہیں لگا ہوتا بالکل صاف ہوتا ہے ایسے ہی یہ لوگ دعویٰ اسلام کے باوجود اسلام سے ایسے نکل جائیں گے کہ ان کے دلوں میں اسلام کا شائبہ بھی نہ ہوگا۔اﷲ کی پناہ!

۶؎ یا اس لیے قتل کردو کہ وہ مرتد ہیں یا اس لیے کہ وہ سلطان اسلام کے باغی ہیں مگر یہ قتل شاہ اسلام کرے گا نہ کہ عام مسلمان۔کسی نے حضرت علی سے پوچھا کہ کیا خوارج کافر ہیں فرمایا وہ کفر ہی سے تو بھاگتے ہیں پوچھا کہ کیا یہ منافق ہیں ؟فرمایا منافق لوگ ذکر اﷲ کم کرتے ہیں پوچھا پھر ہم انہیں کیا کہیں؟ فرمایا فتنہ میں مبتلا ہوکر بہرے گونگے ہوگئے۔

۷؎ معلوم ہوا کہ خوارج،باغی،مرتد کاقتل جائز ہی نہیں بلکہ کار ثواب ہے۔
Flag Counter