۱؎ یعنی مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب۔شریعت میں مرتد وہ شخص ہے جو مسلمان ہونے کے بعد کافر ہوجائے،اسی طرح اسلامی فرقوں میں سے وہ فرقہ جس کی بدعقیدگی کفر تک پہنچ گئی ہو جیسے قادیانی،بہائی، خوارج اور تبرائی،روافض حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے بدگو گستاخ۔وہابی یہ بھی مرتد ہیں کیونکہ جب یہ بچپن میں کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں تو مسلمان ہوجاتے ہیں کہ بچہ کا اسلام معتبر ہے مگر اپنی قومی بدعقیدگیوں کی وجہ سے کافر نہیں ہوتے کہ بچہ کا کفرمعتبر نہیں،پھر جب بالغ ہوکر وہ عقیدے اختیار کرتے ہیں تو اب اسلام کے بعد کافر ہوتے ہیں،ان فرقوں کے ارتداد کی تصریح فتاوی عالمگیری باب المرتدین میں ہے۔فسادی وہ لوگ ہیں جو مملکت اسلامیہ میں شر انگیزی کریں جیسے ڈاکو اور باغی وغیرہم۔مرتد کے لیےمستحب یہ ہے کہ اسےغور کرنے کی کچھ مہلت دی جائے اگر اسے اسلام کے متعلق کچھ شبہات ہوں تو دور کردیئے جائیں،اگر توبہ کرلے تو فبہا ورنہ قتل کردیا جائے اور ڈاکو وغیرہ کو سولی دی جائے یہ دونوں قتل قرآن کریم سے ثابت ہیں اور احادیث شریف سے بھی،قران کریم نے مرتدین بنی اسرائیل کے متعلق فرمایا:"فَتُوۡبُوۡۤا اِلٰی بَارِئِکُمْ فَاقْتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ"جو بنی اسرائیل بچھڑا پوج کر مرتد ہوگئے انہیں قتل کیا گیا اور فسادیوں کے متعلق فرماتاہے:"اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیۡنَ یُحَارِبُوۡنَ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الۡاَرْضِ فَسَادًا اَنۡ یُّقَتَّلُوۡۤا اَوْ یُصَلَّبُوۡۤا"الایہ۔
حدیث نمبر442
روایت ہے حضرت عکرمہ سے فرماتے ہیں کہ جناب علی کے پاس کچھ بد دین لائے گئے ۱؎ آپ نے انہیں جلادیا ۲؎ تویہ خبرحضرت ابن عباس کو پہنچی تو آپ نے فرمایا اگر میں ہوتا۳؎ تو انہیں نہ جلاتا حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے منع فرمانے کی وجہ سے کہ فرمایا کسی کو اﷲ کا عذاب نہ دو ۴؎ میں انہیں قتل کرتا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان کی وجہ سے کہ جو اپنا دین بدل دے اسے قتل کردو ۵؎(بخاری)۶؎
شرح
۱؎ زنادقہ زندیق کی جمع ہے،زندیق ملحدوبے دین کو کہتے ہیں۔مجوس جو کہتے تھے کہ زند کتاب آسمانی ہے ان کے لیے یہ لفظ وضع ہوا،پھر ہر بے دین کو زندیق کہنے لگے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں قوم سائبہ کے لوگ عبداﷲ ابن سبا کے مطیع ہوگئے جو حضرت علی کو خدا کہنے لگے دیگر صحابی پر تبرا کرنے لگے،وہ حضرت علی کی کچہری میں پکڑ کر لائے گئے،رفض کی اصل یہاں سے قائم ہوئی،اب بھی روافض میں ایک فرقہ نصیری ہے جو جناب علی کو خدا کہتا ہے،ہم نے مرثیوں میں یہ شعر سنا ہے۔شعر دکھادو یا علی جلوہ نصیری کے خدا تم ہو یہ آنکھیں طالب دیدار ہیں حاجت روا تم ہو دیکھو لمعات،مرقات،اشعۃ اللمعات۔ ۲؎ اس طرح کہ پہلے حضرت علی نے انہیں توبہ کا حکم دیا مگر انہوں نے انکار کیا آپ نے خندق کھودوا کر اس میں آگ جلوائی پھر جلتی آگ میں ان زندوں کو ڈال دیا جس سے وہ جل کر راکھ ہوگئے۔ (مرقات،اشعہ،لمعات) ۳؎ یعنی اگر بجائے علی مرتضٰی کے میں خلیفہ ہوتا یا اس وقت حضرت علی کے پاس میں موجود ہوتا پہلے معنے زیادہ قوی ہیں کیونکہ فرما رہے ہیں میں نہ جلاتا یہ نہ فرمایا کہ میں نہ جلانے دیتا۔ ۴؎ معلوم ہوا کہ مرتد کی سزا صرف قتل ہے،کسی جاندار کو زندہ نہ جلایا جائے بعض لوگ جوں،کھٹمل، بھڑکو زندہ آگ میں ڈال دیتے ہیں وہ اس سے عبرت پکڑیں۔ ۵؎ فی زمانہ بعض لوگ قتل مرتد کے انکاری ہیں حالانکہ قتل مرتد قرآن کریم سے بھی ثابت ہے فرمایا:" فَاقْتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ"نیز حکومت کا باغی لائق قتل ہے تو حکومت الہیہ کا باغی بھی قابل قتل ہونا چاہیے، مرتد ربانی حکومت کا باغ ہے۔خیال رہے کہ یہاں دینہ سے مراد اسلام ہے کیونکہ انسان کا اصلی اور روحانی دین اسلام ہی ہے، دوسرے دین تو دنیا میں آکر بری صحبتوں سے ملتے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ جو اپنا دین یعنی اسلام ترک کرکے دوسرا دین اختیار کرے اسے قتل کردو،شائد حضرت علی کو یہ روایت پہنچی نہ تھی،بعض روایات میں ہے کہ جب حضرت علی کو حضرت ابن عباس کے اس فرمان کی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا انہوں نے سچ کہا،دیکھو مرقات و اشعۃ اللمعات۔ ۶؎ اس حدیث کو ترمذی،ابن ماجہ،ابوداؤد،نسائی اور احمد نے بھی روایت کیا۔خیال رہے کہ مرتدہ عورت کو قتل نہ کیا جائے گا بلکہ اسے قید کیا جائے گا حتی کہ توبہ کرے۔