روایت ہے حضرت نافع ابن خدیج سے فرماتے ہیں کہ ایک انصاری شخص خیبر میں مقتول ہوگئے ۱؎ تو ان کے اولیاء نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں گئے ۲؎ پھر یہ واقعہ حضور سے عرض کیا تو فرمایا کہ کیا تمہارے پاس دو گواہ ہیں جو تمہارے ساتھی کے قتل پر گواہی دیں وہ بولے یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کوئی مسلمان نہ تھا ۳؎ اور وہ لوگ یہود ہیں جو اس سے بڑے جرم پربھی جرأت کرلیتے ہیں تو فرمایا کہ تم ان میں سے پچاس شخص چن لو پھر ان سے قسم لو ۴؎ ان حضرات نے انکار کیا تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے پاس سے ان کی دیت دے دی ۵؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یہ مقتول وہ ہی عبداﷲ ابن سہل تھے جن کا واقعہ ابھی پہلی فصل میں گزرچکا۔ ۲؎ یعنی مقتول کے حقیقی بھائی اور چچازاد جیساکہ ابھی گزرا۔ ۳؎ یہ حدیث مذہب حنفی کی تائید کرتی ہے کہ احناف کے ہاں اگر کوئی مقتول کسی گلی کوچہ میں پایا جائے جس پر قتل کا اثر ہو جیسے خون یا زخم کاری یا گلا گھونٹنے کے آثار تب اولًا ولی مقتول سے گواہ طلب کیے جائیں گے اگر دو گواہ قتل عمد کے مل گئے تو قاتل پر قصاص لازم ہوگا ورنہ اہل محلہ سے پچاس آدمیوں کی قسم لی جائے گی لیکن اگر اثر قتل نہیں ہے کہ غالبًا وہ شخص خود ہارٹ فیل(Heart fail)سے مرا ہے۔یہاں حضور نے مدعیان سے گواہ مانگے۔اس حدیث کی تائید قرآن کریم سے بھی ہوتی ہے فرماتاہے:"وَاَشْہِدُوۡا ذَوَیۡ عَدْلٍ مِّنۡکُمْ"حدیث متواتر سے بھی حضور فرماتے ہیں البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر،نیز حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلے بھی اس کی تائید کرتے ہیں جیسا کہ ابن شیبہ وغیرہ نے نقل فرمایا پہلی فصل کی حدیث اگرچہ متفق علیہ ہے مگر حکم قرآنی اور احادیث متواترہ اقوال صحابہ کے خلاف ہے اسی لیے امام ابوحنیفہ نے اس پر عمل نہ فرمایا،اس کی پوری بحث اسی جگہ مرقات میں ملاحظہ فرمایئے۔ ۴؎ کیونکہ تمہارے پاس قتل کے گواہ عینی موجود نہیں اگر دو گواہ عینی مل جائیں تو قسامت نہیں ہوتی۔ ۵؎ یہ دیت دینا حکم شرعی نہیں بلکہ دفع فتنہ کے لیے ہے آئندہ اگر ایسا واقعہ پیش آئے تو محلہ والوں سے قسم لی جائے گی خواہ مسلمان ہوں یا کافر ذمی۔