۱؎ آپ کی کنیت ابوعبدالرحمان ہے،زہری ہیں،قرشی ہیں عبدالرحمن ابن عوف کے بھانجہ ہیں ۲ھ میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے اور بقر عید ۸ھ میں ہجرت کرکے مدینہ منورہ حاضر ہوئے شہادت عثمان تک مدینہ پاک ہی رہے اس کے بعد مکہ معظمہ چلے گئے،امیر معاویہ کے انتقال کے بعد یزید ابن معاویہ کی بیعت سے انکار کردیا جب یزید نے مکہ معظمہ کا محاصرہ کرکے کعبہ معظمہ پر پتھر برسائے تو آپ کے ایک پتھر لگا اس سے حطیم شریف میں نماز پڑھتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا یہ واقعہ ربیع الاول ۶۴ھ میں ہوا۔
۲؎ یعنی کسی واقعہ پر مجھے پتھر اٹھانا پڑا صرف تہبند بندھا تھا وہ گر گیا جس سے آپ بالکل برہنہ ہوگئے ہاتھ گرے ہوئے تھے،اس لیے آپ تہبند نہ اٹھا سکے۔
۳؎ عراۃ عاری کی جمع ہے اور قاضی کی قضاۃ ناحی کی نحاۃ یہ حکم عام ہے کہ کوئی باہوش شخص اگرچہ بالغ نہ ہو ننگا نہ رہے نہ پھرے ستر ڈھانپنا فرض ہے۔
۱؎ آپ کی کنیت ابوعبدالرحمان ہے،زہری ہیں،قرشی ہیں عبدالرحمن ابن عوف کے بھانجہ ہیں ۲ھ میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے اور بقر عید ۸ھ میں ہجرت کرکے مدینہ منورہ حاضر ہوئے شہادت عثمان تک مدینہ پاک ہی رہے اس کے بعد مکہ معظمہ چلے گئے،امیر معاویہ کے انتقال کے بعد یزید ابن معاویہ کی بیعت سے انکار کردیا جب یزید نے مکہ معظمہ کا محاصرہ کرکے کعبہ معظمہ پر پتھر برسائے تو آپ کے ایک پتھر لگا اس سے حطیم شریف میں نماز پڑھتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا یہ واقعہ ربیع الاول ۶۴ھ میں ہوا۔
۲؎ یعنی کسی واقعہ پر مجھے پتھر اٹھانا پڑا صرف تہبند بندھا تھا وہ گر گیا جس سے آپ بالکل برہنہ ہوگئے ہاتھ گرے ہوئے تھے،اس لیے آپ تہبند نہ اٹھا سکے۔
۳؎ عراۃ عاری کی جمع ہے اور قاضی کی قضاۃ ناحی کی نحاۃ یہ حکم عام ہے کہ کوئی باہوش شخص اگرچہ بالغ نہ ہو ننگا نہ رہے نہ پھرے ستر ڈھانپنا فرض ہے۔