۱؎ یعنی کفار نے اس پر یا اس نے کفار پر حملہ کیا اور یہ مارا گیا یا کسی کلمہ گو بے دین سے کسی دینی مسئلہ میں اس سے لڑائی ہوگئی اور یہ مارا گیا تو شہید ہے۔
۲؎ اس طرح کہ کوئی ظالم اسے قتل کرنے یا اس کے گھر والوں کی بے حرمتی کرنے یا اس کا مال چھیننے آیا،یہ شخص اپنی جان،عزت،مال کی حفاظت کے لیے ان کے مقابل ہوا اور مارا گیا تو یہ بھی شہید ہے کہ ظلمًا مارا گیا ہے اور اگر اس نے اس ظالم کو مار ڈالا کیونکہ بغیر قتال اس سے بچنے کی کو ئی صورت نہ تھی تو اس پر اس قتل کی وجہ سے قصاص یا دیت نہیں بلکہ موجودہ حکومتیں ایسی صورت میں بہادری کا انعام دیتی ہیں۔