۱؎ قرآن کریم فرماتاہے:"لَہَا سَبْعَۃُ اَبْوٰبٍ لِکُلِّ بَابٍ مِّنْہُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوۡمٌ"دوزخ کے سات دروازے ہیں ہر دروازے کے لیے مجرموں کی خاص جماعت ہے لہذا یہ جماعت اس قرآنی آیت سے مؤید ہے اور نہایت درست ہے۔
۲؎ یعنی ظلمًا قتل کرنے کے لیے کسی مسلمان پر تلوار اٹھائے اور یہ دروازہ بمقابلہ دوسرے دروازوں کے زیادہ خطرناک ہوگا کہ یہ جرم بھی سخت ہے۔
۳؎ کہ اگر کسی کا گدھا یا گھوڑا کسی کو لات مار کر زخمی یا ہلاک کردے تو گھوڑے گدھے کے مالک پر تاوان نہیں،یوں ہی اگر کسی کی گائے بھینس سینگ مارکر زخمی کردے اس کا بھی یہ ہی حکم ہے اور اگر کسی کا کتا کسی کو کاٹ کر زخمی کردے تو اس کا یہ حکم نہ ہونا چاہیے کیونکہ بلاضرورت کتا پالنا ہی ممنوع ہے اور ایسے ظالم کتے کو آزاد چھوڑنا سخت ہے،ضرورۃً کتا پالا جائے تو اسے باندھ کر رکھے۔واﷲ ورسولہ اعلم!
۴؎ یعنی مصابیح میں وہ حدیث یہاں تھی مگر ہم نے مناسبت کا خیال کرتے ہوئے یہ حدیث باب الغصب میں بیان کردی۔