Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
435 - 1040
الفصل الثانی

دوسری فصل
حدیث نمبر435
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جس نے پردہ کھولا پھر گھر میں نظر ڈالی اس سے پہلے کہ اسے اجازت دی جائے پھر گھر والوں کا ستر دیکھ لیا تو اس نے ایسی سزا کا کام کیا جو کرنا اسے درست نہ تھا ۱؎ اور جب کہ اس نے نظر ڈالی تو کوئی سامنے آگیا اور کسی نے اس کی آنکھ پھوڑ دی تو میں اسے شرم نہ دلاؤں گا۲؎ اور اگر کوئی شخص بے پردہ دروازے کھلے پر گزرے پھر دیکھ لے تو اس پر گناہ نہیں ۳؎ خطاء تو صرف گھر والوں پر ہے ۴؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۵؎
شرح
۱؎ یعنی جو شخص کسی کے گھر کے دروازے کا لٹکا ہوا پردہ یا بند کواڑ بغیر صاحب خانہ کی اجازت کے کھولے اور گھر میں جھانک لے جس سے گھر کی چھپی چیزیں یا چھپی عورتیں یا کسی مرد کا ستر دیکھ لے تو اس نے بدترین گناہ کیا،کہ حق اللہ بھی تلف کیا حق العبد بھی برباد کیا۔

۲؎ یعنی اس آنکھ پھوڑ دینے والے کو نہ تو کوئی سزا دوں گا نہ ملامت کروں گا کیونکہ یہاں قصور اس جھانکنے والے کا ہے۔اس مسئلہ کی تحقیق اور اس کے متعلق آئمہ دین کا اختلاف پہلے بیان ہوچکا کہ احناف کے نزدیک یہ فرمان عالی ڈرانے دھمکانے کے لیے ہے ورنہ اس آنکھ پھوڑنے والے سے آنکھ کا قصاص ضرور لیا جائے گا،رب تعالٰی نے فرمایا:"الْعَیۡنَ بِالْعَیۡنِ"آنکھ تو آنکھ کے بدلے میں پھوڑی جاسکتی ہے نہ کہ تانک جھانک کے عوض۔

۳؎ یعنی اب اس دیکھنے والے پر یہ جرم نہیں جو ابھی مذکور ہوا اگرچہ نیچی نگاہ رکھنا بہتر ہے۔

۴؎ اس سے معلوم ہوا کہ گھر کا دروازہ بلاضرورت کھلا رکھنا گناہ ہے یہ جب ہے جب کہ دروازے کے آگے یا پیچھے پردہ کی دیوار نہ ہوکہ اس صورت میں دروازہ کھلا رہنے سے گھر والوں کی بے پردگی ہوتی ہے اس کا بہت خیال چاہیے لوگ اس سے غافل ہیں۔

۵؎ یہ حدیث احمد اور ترمذی نے بھی انہی راوی سے کچھ فرق کے ساتھ نقل فرمائی۔
Flag Counter