Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
434 - 1040
حدیث نمبر434
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب تم میں سے لڑے تو چہرے سے بچے ۱؎ کہ اﷲ تعالٰی نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا ۲؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی کسی کو لڑائی میں چہرے پر نہ مارو اگر چہ کافر سے ہی جہادکرو کہ اسے قتل کردو مگر اس کا چہرہ نہ بگاڑو، اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ زانی کے چہرہ پرکوڑا نہ مارو،اپنی اولاد خادم کو قصور پر سزا دو تو چہرے پر نہ مارو۔

۲؎ یعنی اپنی پسندیدہ صورت پر پیدا فرمایا کہ تمام مخلوق میں سے اسے حسین و جمیل بنایا،خود فرماتاہے:"لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنۡسٰنَ فِیۡۤ اَحْسَنِ تَقْوِیۡمٍ"لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ اﷲ تعالٰی تو صورت سے پاک ہے پھر اس کی صورت کیسی یا یہ اضافت شرف کے لیے ہے جیسے بیت اﷲ یا ناقۃ اﷲ۔بعض روایات میں ہے کہ اﷲ تعالٰی نے آدم علیہ السلام کو صورت رحمان پر پیدا فرمایا،اگر وہ حدیث صحیح ہو تو اس کا مطلب بھی یہ ہی ہوگا۔خیال رہے کہ انسان اﷲ تعالٰی کی بڑی کامل مخلوق ہے اسے رب نے سننے دیکھنے بولنے اور سوچنے سمجھنے کی طاقت بخشی،اگر یہ ترقی کرے تو فرشتوں سے افضل ہوجائے اگر نیچے گرے تو ابلیس سے بدترین ہوجائے اور اس کی ساری قوتیں سر اور چہرے میں جمع ہیں اس لیے اس پر مارنے سے منع فرمایا گیا،اسی جگہ مرقات نے بہت نفیس تقریر کی ہے۔
Flag Counter