| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ہشام ابن عروہ سے ۱؎ وہ اپنے باپ سے راوی ۲؎ کہ ہشام ابن حکیم ۳؎ شام میں کچھ کسان آدمیوں پر گزرے ۴؎ جو دھوپ میں کھڑے کیے گئے تھے اور ان کو سروں پر تیل ڈالا گیا تھا ۵؎ تو آپ نے کہا یہ کیا ہے ؟ کہا گیا یہ لوگ ٹیکس کے بارے میں عذاب دیئے جارہے ہیں تو ہشام نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ یقینًا اﷲ تعالٰی ان لوگوں کو عذاب دے گا جو لوگوں کو دنیا میں عذاب دیتے ہیں۔۶؎(مسلم)۷؎
شرح
۱؎ آپ مشہور تابعی ہیں،حضرت حسین کی شہادت کے سال آپ کی ولادت ہے، ۱۴۶ھ میں وفات پائی،حضرت عبداﷲ ابن زبیر اور عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہم سے ملاقات کی ہے۔ ۲؎ ان کا نام عروہ ابن زبیر ابن عوام،آپ بھی تابعی ہیں،مدینہ منورہ کے سات فقہاء میں سے آپ بھی ہیں، حضرت اسماء بنت ابوبکر صدیق آپ کی والدہ ہیں حضرت عائشہ صدیقہ کے بھانجے صائم الدھر تھے، ۹۴ھ میں آپ کی وفات ہوئی۔ ۳؎ آپ ہشام ابن حکیم ابن حزام قرشی اسدی ہیں،فتح مکہ کے دن ایمان لائے،آپ کے والد حکیم ابن حزام ام المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ کے بھتیجہ ہیں،ان کی پیدائش خانہ کعبہ میں ہوئی واقعہ فیل سے تیرہ برس قبل،ایک سو بیس سال کی عمر ہوئی، ۵۴ھ میں وفات پائی،ساٹھ سال کفر میں گزارے اور ساٹھ سال اسلام میں،زمانہ جاہلیت میں آپ نے سو۱۰۰ غلام آزاد کیے۔(مرقات) ۴؎ نبط یا نبیط بصرہ اور کوفہ کے درمیان ایک پہاڑ کا نام ہے وہاں کے باشندے عمومًا کسان تھے اس لیے اب ہر کسان کو نبطی کہہ دیتے ہیں۔ ۵؎ یعنی حاکم نے ان غریبوں کو تیز دھوپ میں کھڑا کرکے ان کے سروں پر گرم تیل ڈالا تھا تاکہ ٹیکس ادا کردیں یا بقیہ ٹیکس دے دیں۔ ۶؎ یعنی اب کھولتا پانی،گرم تیل ان سے عذاب دینا حرام ہے کیونکہ یہ عذاب آخرت میں کفار کو رب تعالٰی دے گا کوئی بندہ کسی کو خدا کا عذاب نہ دے۔ ۷؎ اس حدیث کو احمد،ابوداؤد،بیہقی نے بھی عیاض ابن حکم سے روایت کیا اور ابوداؤد،ترمذی،حاکم نے حضرت ابن عباس سے روایت فرمایا لا تعذبوا بعذاب اﷲ کسی کو خدا کا عذاب نہ دو۔