۱؎ یہ خطاب یا حضرت ابوہریرہ سے ہے یا کسی اور صحابی سے ہے حضرت ابوہریرہ سن رہے تھے۔
۲؎ یعنی چمڑہ کے کوڑے جس سے وہ لوگوں کو ماریں گے مگر ناحق یا حکام کے دروازوں پر یہ کوڑے لیے بیٹھے ہوں گے تاکہ لوگوں کو مار مار کر وہاں سے ہٹائیں،کسی کو فریاد کرنے کے لیے حکام تک نہ پہنچنے دیں گے۔(مرقات)
۳؎ یعنی ہر وقت اﷲ کے غضب میں رہیں گے۔صبح شام وقت کے دو کنارے ہیں ان کناروں کا ذکر فرمایا مراد ہر وقت ہے جیسے آل فرعون کے متعلق قرآن کریم میں ارشاد ہے"اَلنَّارُ یُعْرَضُوۡنَ عَلَیۡہَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا"ایسا ہی یہاں ہے۔
۴؎ کیونکہ اس قسم کے لوگ دیوانے کتوں کی طرح ہیں جو مخلوق خدا کو ستاتے ہیں لہذا خدا کی لعنت کے مستحق ہوں گے مخلوق کو ستانا رب تعالٰی کی ناراضی کا باعث ہے۔