۱؎ ہم سے مراد امت رسو ل اﷲ ہے،یہ حضور کا کرم کریمانہ ہے کہ مسلمانوں میں اپنے کو شامل فرمایا علینا جمع ارشاد فرمارہے ہیں صلی اللہ علیہ وسلم اور ہتھیار اٹھانے سے مراد مطلقًا اٹھانا ہے خواہ ظلمًا قتل کے لیے خواہ مذاق دل لگی کے طور پر۔
۲؎ یعنی ہماری جماعت سے نہیں یا ہمارے اہل طریقہ و اہل سنت سے نہیں لہذا اس سے کفر مراد نہیں۔
۳؎ ملاوٹ سے مراد ہے یا چیز کا عیب چھپا کر فروخت کردینا یا اصل میں نقل ملا دینا غرضکہ ہر کاروباری دھوکہ مراد ہے۔اور غشنا میں ضمیر متکلم سے مراد سارے مسلمان ہیں اہل عرب یا اہل مدینہ یعنی جس نے مسلمانوں کو یا اہل عرب کو اہل مدینہ کو دھوکہ دیا وہ ہماری جماعت سے نہیں،ترمذی اور احمد نے حضرت عثمان سے روایت کی من غش العرب لم یدخل فی شفاعتی ولم تنلہ مؤدتی جس نے عرب کو دھوکہ دیا وہ میری شفاعت نہ پائے گا اور اسے میری محبت نہ پہنچے گی۔