| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے ۱؎ کہ ایک شخص سوراخ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے دروازے میں جھانکا اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس سلائی تھی ۲؎ جس سے آپ اپنا سر مبارک کھجارہے تھے تو فرمایا اگر میں جانتا کہ تو مجھے دیکھ رہا ہے تو میں یہ سلائی تیری آنکھ میں گھونپ دیتا۳؎ طلب اجازت نگاہ کی حفاظت ہی کے لیے تو مقرر کی گئی ہے ۴؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ آپ انصاری ساعدی ہیں،آپ کا نام شریف حزن تھا حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بدل کر سہل رکھا،آپ مدینہ کے آخری صحابی ہیں،مدینہ پاک میں انتقال ہوا۔ ۲؎ سرمہ لگانے کی یا سر کی مانگ نکالنے کی جیساکہ صراح میں ہے۔ ۳؎ یعنی اگر مجھے یہ علم ہوتا کہ تو ارادۃً تاک جھانک رہا ہے تو اس سلائی سے تیری آنکھ پھوڑ دیتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ بغیر قصدوارادہ اگر کسی کے گھر نظر پڑ جائے تو گناہ نہیں جیسے گزرتے ہوئے اتفاقًا کسی کے کھلے دروازہ میں نظر پڑ جائے۔(مرقات) ۴؎ یعنی بغیر اجازت کسی کے گھر میں جھانکنا وہاں بلا اجازت داخل ہوجانے کی طرح ہے جیسے وہ ممنوع ہے ایسے ہی یہ ممنوع کہ اس میں گھر والوں کی بے پردگی ہے۔اس عبارت سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ فرمان عالی ڈانٹ ڈپٹ جھڑک کے لیے ہے آنکھ پھوڑ دینے کی اجازت کے لیے نہیں کیونکہ کسی کے گھر میں بلا اجازت چلے جانے پر اس کا قتل یا آنکھ پھوڑ دینا جائز نہیں کردیتا،جیسے جان جان کے عوض ہے ایسے ہی آنکھ آنکھ کے عوض"اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیۡنَ بِالْعَیۡنِ"لہذا مذہب احناف بہت قوی ہے۔