۱؎ خواہ دروازے کے جھرونکوں سے یا دیوار پر چڑھ کر یا اونچے مکان والا نیچے مکان والے کو تاکے جھانکے،یہ جملہ ان سب صورتوں کو شامل ہے۔
۲؎ یعنی اگر تو نے اسے گھر میں آنے کی اجازت دے دی بعد اجازت وہ جھانکتا ہے تو وہ مجرم نہیں کہ آنے کی اجازت دیکھنے کی بھی اجازت ہے،اسی طرح اونچے مکان والا نیچے والوں سے اجازت لے کر چڑھا ہے،اگر بغیر اجازت چڑھے تو نیچے والوں کے پردہ کا ضرور خیال رکھے نگاہ نیچے رکھے۔
۳؎ امام شافعی اس حدیث کے ظاہر پرعمل فرماتے ہیں اور اس صورت میں اس کی آنکھ کا ضمان مطلقًا واجب نہیں فرماتے۔بعض امام فرماتے ہیں کہ اگر منع کرنے کے باوجود وہ تاکتا ہے توا س کی آنکھ کا ضمان نہیں،امام اعظم فرماتے ہیں کہ بہرحال ضمان ہے،یہ فرمان عالی تاک جھانک سے سخت ممانعت کے لیے ہے یا اس میں گناہ کی نفی ہے دیت وغیرہ کی نفی نہیں،بہت دفعہ گناہ نہیں ہوتا مگر ضمان ہوجاتا ہے جیسے قتل خطاء قرآن کریم فرماتاہے:"الْعَیۡنَ بِالْعَیۡنِ"معلوم ہوا کہ آنکھ کے عوض آنکھ پھوڑی جائے۔