| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں ایک شخص حاضر ہوا بولا یارسول اﷲ فرمایئے اگر کوئی شخص آئے اور میرا مال لینا چاہے ۱؎ تو فرمایا اسے اپنا مال نہ دے ۲؎ وہ بولا حضور فرمادیں اگر وہ مجھ سے جنگ کرے فرمایاتو اس سے جنگ کر۳؎ عرض کیا فرمایئے اگر وہ مجھے قتل کردے فرمایا تو شہید ہے ۴؎ عرض کیا فرمایئے اگر میں اسے قتل کردوں فرمایا وہ دوزخ میں ہوگا۵؎ (مسلم)
شرح
۱؎ یعنی ناحق لینا چاہے غصب یا چوری یا ڈکیتی سے اور جو حق لینا چاہے تو ضرور دے دے لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔ ۲؎ یعنی اس صورت میں اسے اپنا مال نہ دے کیونکہ اپنے کو ظلم سے بچانا اچھا ہے،اسی طرح سود،رشوت، مالی،جرمانہ میں اپنا مال نہ دے کہ یہ تمام صورتیں ممنوع ہیں۔خیال رہے کہ یہ نہی حرمت کی نہیں،نیز حالت مجبوری اس سے مستثنٰی ہے،یہ بھی خیال رہے کہ اپنے سے ظلم دفع کرنے کے لیے رشوت دینا جائزہے اور کسی پر ظلم کرانے کے لیے حرام مگر رشوت لینا بہرحال حرام ہے۔اس کی تفصیل شامی میں ملاحظہ فرمایئے۔ ۳؎ یہ حکم بھی اجازت و اباحت کا ہے وجوب کا نہیں لہذا اگر کوئی شخص اس حالت میں جنگ نہ کرے تو مجرم نہیں۔ ۴؎ کیونکہ تو مظلوم ہے اور ظلمًا مقتول شہید ہے۔ ۵؎ یعنی نہ تو گنہگار ہے نہ تجھ پر قصاص یا دیت ہے بلکہ اب تو حکومتیں ایسے بہادری سے مار دینے والوں کو انعام اور تمغے دیتی ہیں۔