Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
420 - 1040
حدیث نمبر420
روایت ہے حضرت یعلیٰ ابن امیّہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ غزوۂ تبوک کیا ۲؎ اور میرا ایک مزدور تھا۳؎ وہ ایک شخص سے لڑا تو ان میں سے ایک نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ لیا ۴؎ جس کا ہاتھ کاٹا گیا تھا اس نے کاٹنے والے سے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کی ثنیہ گرادی ۵؎ وہ گر گئی تو یہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۶؎ آپ نے اس کی ثنیہ باطل فرمادی اور فرمایا کہ کیا وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں چھوڑ دیتا کہ تو اونٹ کی طرح چباتا ۷؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ آپ تمیمی حنظلی ہیں،فتح مکہ کے دن ایمان لائے،غزوہ حنین،طائف اور تبوک میں شریک ہوئے،حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ صفین میں رہے اسی میں شہید ہوئے ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو نجران کا حاکم مقرر کیا تھا۔

۲؎ غزوۂ تبوک کا نام جیش عسرۃ ہے یعنی تنگی والا لشکر کیونکر اس غزوہ میں گرمی سخت تھی اور لشکر کے پاس کھانا پانی بہت ہی کم۔تبوک خیبر سے پانچ سو کیلو میٹر ہے،یہ گنہگار خیبرکی زیارات سے مشرف ہوا مگر تبوک پر سے ہوائی جہاز میں سوار گزر گیا،خیبر مدینہ منورہ سے ایک سو ساٹھ کیلو میٹر ہے،چھ کیلو کے ہمارے۴میل ہوتے ہیں،اس غزوہ کے موقعہ پر حضرت عثمان نے اس لشکر کو بہت سامان دیا اور مجہز جیش عسرۃ کا لقب پایا جنت خرید کی،اسی غزوہ میں مسلمانوں نے درختوں کے پتے کھائے اور اونٹ سے پانی حاصل کیا۔(اشعہ)

۳؎ جو مزدوری پر میرے ساتھ اس جہاد میں گیا تھا۔

۴؎ یا اس مزدور نے اس شخص کا یا اس شخص نے اس مزدور کا۔

۵؎ یعنی کاٹنے والے نے اس زور سے اس کے ہاتھ میں اپنے دانت گڑہا دیئے تھے کہ جب اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو ثنیہ گر گئی ۔ خیال رہے کہ  انسان کے سامنے کے دانت رباعیہ کہلاتے ہیں یعنی چوکڑی اور ان کے متصل دائیں بائیں جو دانت ہیں وہ ثنیہ کہلاتے ہیں۔

۶؎ اور دعویٰ کیا کہ میرے دانت کی دیت دلوائی جائے کیونکہ اس نے میرا دانت گرادیا۔

۷؎ مقصد یہ ہے کہ اس نے تیرا دانت توڑا نہیں بلکہ اپنی حفاظت کے لیے اور اپنے کو بچاتے ہوئے تیرے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا اس لیے وہ ظالم نہیں بلکہ ظالم تو ہے کہ تو نے اسے کاٹا لہذا اس کی کوئی دیت نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے جبرًا زنا کرنا چاہے اور وہ عورت اپنے بچاؤ کے لیے اسے قتل یا زخمی کردے تو اس پر کچھ قصاص یا دیت نہیں،اسی طرح اگر کوئی کسی کا مال یا جان جبرًا لینا چاہے اور وہ اپنے دفاع کے لیے اسے ہلاک کردے تب بھی یہ ہی حکم ہے۔
Flag Counter