روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے چوپایہ کا زخم باطل ہے ۱؎ اور کان باطل ہے اور کنواں باطل ہے ۲؎(مسلم،بخاری)
۱؎ عجماءٌ اعجم کا مؤنث ہے بمعنی گونگا یعنی جو کلام وبات نہ کرسکے،عرب لوگ دیگر ملکوں کو عجم کہتے ہیں کہ وہ کلام پر قادر نہیں۔یہاں چوپایہ مراد ہے جیسے گھوڑا،گدھا،بھینس،گائے وغیرہ یعنی اگر کوئی شخص کسی کے چوپایہ سے زخمی ہوجائے تو اس کا ضمان چوپایہ والے پر واجب نہیں خواہ چوپایہ لات مار دے یا سینگ یا پاؤں سے روند دے،نیز اگر اس کے معمولی چلانے سے سوار گرکر چوٹ کھا جائے تو بھی چلانے والے پر ضمان نہیں خواہ دن میں یہ واقعہ ہو یا رات میں،یہ ہی احناف کا قول ہے،امام شافعی کے ہاں اگر رات کو کسی کا جانور کھل جائے اور کسی کو نقصان پہنچائے تو اس پر ضمان ہے،نیز اگر کھلا جانور کسی کا کھیت خراب کردے تب بھی یہ ہی اختلاف ہے،یہ حدیث احناف کی دلیل ہے۔
۲؎ یعنی اگر کسی کی کان یا کسی کے کنویں میں کوئی شخص یا جانور گر کر ہلاک ہوجائے تو کان اور کنویں والے پر تاوان نہیں بشرطیکہ کنواں اس نے اپنی زمین میں کھدوایا ہو اور بیچ راہ میں نہ ہو اگر مباح زمین میں کھودا جب بھی یہ ہی حکم ہے۔