| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
اور ابوداؤد نے انہیں سعید ابن مسیب سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے متصلًا روایت کیا ۱؎
شرح
۱؎ لہذا یہ روایت مرسل نہیں بلکہ متصل ہے کہ اس میں صحابی کا ذکر آگیا۔خیال رہے کہ اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے کہ اگر بچہ زندہ گر کر مرے تو اس کی دیت پوری ہے یعنی سو اونٹ مگر اس میں اختلاف ہے کہ بچے کی زندگی ثابت کس چیز سے ہوتی ہے ہم احناف کے ہاں رونا،دودھ چوسنا،سانس لینا،چھینکنا علامات زندگی ہیں،ہاں صرف بعض اعضاء کا حرکت کرنا علامت زندگی نہیں مگر امام شافعی کے ہاں صرف رونا علامت زندگی ہے،دلائل فریقین کے اسی جگہ مرقات میں مذکور ہیں۔