Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
417 - 1040
حدیث نمبر417
روایت ہے حصرت سعید ابن مسیب سے ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس پیٹ کے بچے میں جو اپنی ماں کے پیٹ میں قتل کردیا جائے ۲؎ ایک غلام یا لونڈی کی پیشانی کا فیصلہ فرمایا۳؎ تو جس کے خلاف فیصلہ ہوا تھا وہ بولا کہ اس کا تاوان کیونکر دیں جس نے نہ کھایا پیا نہ گفتگو کی اور نہ چیخ ماری ان جیسی چیزیں ضائع کی جانی چاہیے۴؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ کاہنوں کے بھائیوں سے ہے ۵؎ مالک نسائی ارسالًا ۶؎
شرح
۱؎ آپ کی کنیت ابو محمد ہے،قرشی مخزومی مدنی ہیں،خلافت فاروقی میں پیدا ہوئے،حدیث،فقہ،عبادت تقویٰ کے جامع تھے،بہت سے صحابہ کرام سے ملاقات ہے،چالیس حج کیے،     ۹۳ء؁ میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔

۲؎  یعنی حاملہ عورت کو مارا گیا جس سے اس کا پورا کچا بچہ گر گیا یا پختہ بچہ تھا جو پیٹ میں مر گیا پھر گر گیا کیونکہ باہر آکر مرے تو پوری دیت سو اونٹ واجب ہوتی ہے۔(اشعہ و مرقات)

۳؎ یعنی قاتل کے وارثوں پر لازم فرمایا کہ جس عورت کا بچہ گر گیا ہے اس کو ایک غلام یا لونڈی دیں جس کی قیمت پانچ سو درہم تھی یعنی پچاس دینار،ہر دینار دس درہم کا یہ تفسیر اس لیے کی گئی کہ حضرت عبداﷲ ابن بریدہ کی روایت میں ہے کہ حضور نے پانچ درہم واجب فرمائے اور ابن ابی شیبہ نے حضرت زید اسلم سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایسے معاملہ میں پچاس دینار کا فیصلہ فرمایا لہذا تینوں روایات درست ہیں۔خیال رہے کہ بچہ لڑکا ہو یا لڑکی حکم یہ ہی ہوگا اگر ماں بھی مرجائے تو ماں کی دیت سو اونٹ لازم ہوگی۔

۴؎ اس کا مقصد یہ تھا کہ دیت تو جان کی ہوتی ہے اور یہ گرا ہوا بچہ بالکل بے جان ہے کہ پیدا ہوکر چیخا بھی نہیں،کھایا پیا بھی نہیں پھر یہ دیت کیوں واجب ہوئی،گویا اس نے نص کا مقابلہ عقل سے کیا یہ قیاس باطل ہے کہ نص کے مقابل ہے۔

۵؎ یعنی یہ کاہنوں کا بھائی ہے کہ اپنی عقل تیز زبانی مقفّے عبارت سے نص شرعی کا مقابلہ کررہا ہے تو جیسے کہانت بری چیز ہے ایسے ہی اس کا یہ 

قول برا ہے۔

۶؎ کیونکہ حضرت سعید ابن المسیب تابعی ہیں،وہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ فرمایا صحابی کا ذکر نہ کیا اسی کا نام ارسال ہے۔
Flag Counter