| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم گاؤں والوں پر خطاء کی دیت کی قیمت چار سو اشرفیاں یا ان کے برابر چاندی لگاتے تھے ۱؎ اور یہ قیمت اونٹ کی قیمت پرتھی پھر جب اونٹ مہنگے ہوجاتے تو ان کی قیمت میں زیادتی فرمادیتے اور جب سستے ہوجاتے ۲؎ تو ان کی قیمت میں کمی فرمادیتے۳؎ اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں قیمت چار سو اشرفیوں سے آٹھ سو اشرفیوں کے درمیان رہی اور اس کے برابر چاندنی آٹھ ہزار درہم فرماتے ہیں۴؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے گائے والوں پر دو سو گائیں اور بکریوں والوں پر دو ہزار بکریوں کا فیصلہ فرمایا ۵؎ اور فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دیت مقتول کے وارثوں کے درمیان میراث ہے ۶؎ اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فیصلہ فرمایا کہ عورت کی دیت اس کے عصبہ وارثوں کے درمیان ہے ۷؎ اور قاتل کسی چیز کا وارث نہیں ۸؎ (ابوداؤد، نسائی)
شرح
۱؎ عدل ع کے فتح اور کسرہ سے بمعنی برابر اور ہم قیمت یعنی چارسو دینار یا اس کے برابر اور ہم قیمت درہم۔ ۲؎ ھاجت ھج سے بنا بمعنی ظہور،رخص بمعنی ارزانی یعنی جب اونٹوں میں ارزانی ظاہر ہوتی اور انکی قیمت گر جاتی۔ ۳؎ یہ حدیث ان لوگوں کی دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ دیت صرف اونٹ سے ہے اگر کسی اور چیز سے ادا کی جائے تو اونٹ کی ہی قیمت کا لحاظ ہوگا،یہ ہی امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ کا پرانا قول تھا جس سے انہوں نے رجوع فرمالیا۔ ۴؎ عمرو ابن شعیب کے دادا عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص۔ ۵؎ یہ جملہ حضرات صاحبین رحمۃ اﷲ علیہما کی دلیل ہے کہ دیت صرف اونٹ یا سونے چاندی سے نہیں بلکہ گایوں بکریوں سے بھی ہوتی ہے یہ اختلاف ہم ابھی پچھلی حدیث کی شرح میں عرض کرچکے ہیں وہاں مطالعہ فرمایئے۔ ۶؎ یعنی دیت کا مال جو قاتل کی طرف سے و صول ہو گا وہ مقتول کے ورثاء کو بقدر میراث ملے گا جیسے اس کے دوسرے اموال میراث تھے۔ ۷؎ اس جملہ کے دو معنے ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ قاتلہ عورت پر جو دیت واجب ہوگی وہ اس کے عصبہ وارث ادا کریں گے جیسے قاتل مرد کی دیت کا حال ہے۔دوسرے یہ کہ مقتولہ عورت کی دیت جو قاتل کی طرف سے وصول ہوگی وہ اس مقتولہ کے واثوں میں بقدر میراث تقسیم ہوگی جیسے مقتول مرد کی دیت کا حال ہے۔غرضکہ مسئلہ دیت میں عورت بالکل مرد کی طرح ہے۔خیال رہے کہ یہ آزاد مردوعورت کا ذکر ہے غلام و لونڈی کا یہ حکم نہیں،قاتل غلام و لونڈی کی دیت ان کے مال فروخت کرکے انکی قیمت سے ادا کی جائے گی اس کے رشتہ دار ورثاء سے وصول نہ کی جائے گی،یوں ہی مقتول غلام ولونڈی کی دیت ان کا مالک وصول کرے گا نہ کہ اس کے رشتہ دار ورثاء لہذا حدیث بالکل ظاہر ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ ۸؎ یہ اسلام کا قانون کلی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے عزیز قرابتدار کو قتل کردے تو وہ اس کی میراث سے یکسر محروم ہے۔چند چیزیں محرومی کا سبب ہیں:اختلاف دین،غلامیت اور قتل،کفار کے لیے اختلاف دارین یعنی ملکوں کا اختلاف بھی۔اس کی تفصیل کے لیے ہماری کتاب"علم المیراث"کا مطالعہ فرمایئے۔