۱؎ قتل شبہ عمد کی تعریف اور اس کے احکام فصل ثانی کے شروع میں بیان ہوچکے کہ ارادۃً ایسی چیز سے قتل کرنا جو قتل کے لیے نہ بنی ہو شبہ کہلاتا ہے مثلًا کسی کو قمچی یعنی چھڑی کوڑے سے مار ڈالنا شبہ عمدہے اور دیت کا مغلظہ یا مخففہ یعنی سخت و ہلکا ہونا اونٹوں کی عمر کے لحاظ سے ہوتا ہے،قتل عمد کی دیت سخت ہے اور قاتل کے مال سے فورًا دلوائی جائے گی قتل شبہ عمد کی دیت ہے تو سخت مگر قاتل کے عصبہ وارثوں سے تین سال کی مدت میں دلوائی جائے گی،یہ ہی اس حدیث کا مطلب ہے۔
۲؎ یعنی قتل عمد کے سوا دوسرے قتل خطاء اور قتل شبہ عمد میں قاتل کو قتل نہ کیا جاوے گا بلکہ دیت ہی واجب ہوگی،موجودہ حکومتیں بھی قتل خطا میں پھانسی نہیں دیتیں جرمانہ دلوادیتی ہیں،،دن رات موٹروں سے آدمی ہلاک ہوتے رہتے ہیں ڈرائیوروں کو پھانسی نہیں ہوتی۔