Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
407 - 1040
حدیث نمبر407
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں دیت کی قیمت آٹھ سو اشرفیاں یا اٹھ ہزا درہم تھے ۱؎ اور اس زمانہ میں اہلِ کتاب کی دیت مسلمانوں کی دیت سے آدھی تھی ۲؎ فرماتے ہیں کہ یوں ہی رہا حتی کہ حضرت عمر خلیفہ بنے تو خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے فرمایا کہ اونٹ مہنگے ہوگئے ۳؎ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے سونے والوں پر ایک ہزار اشرفیاں اور چاندی والوں پر بارہ ہزار۴؎ اور گائے والوں پر دوسو گائیں اور بکریوں والوں پر دو ہزار بکریاں اور جوڑے والوں پر دوسو جوڑے مقرر فرمائے ۵؎ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ذمیوں کی دیت یونہی چھوڑی جیسے اور دیت بڑھائی تھی ان کی نہ بڑھائی ۶؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ پاک میں ایک اونٹ کی قیمت آٹھ دینارتھی لہذا سو اونٹ آٹھ سو دینار کے ہوئے،دینار دس درہم کا ہوتا ہے درہم قریبًا چار آنہ کا تو دینار ڈھائی روپیہ کا ہوا۔

۲؎ اس کی بحث ابھی ہوچکی کہ یہاں اہل کتاب سے مراد غلام کتابی ہے اور مسلمان سے مراد آزاد مسلمان ہے یعنی غلام کافر کی دیت آزاد مسلمان سے آدھی تھی کیونکہ غلام کی دیت آزاد کی دیت سے آدھی ہوتی ہے لہذا یہ خبر اس حدیث کے خلاف نہیں کہ ذمیوں کے متعلق حضور نے ارشاد فرمایا فدماء ھم کدماءنا ان کے خون ہمارے خونوں کی طرح ہیں۔یہ بھی خیال رہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک قتل خطاء کی دیت تین چیزوں سے ادا ہوسکتی ہے یا سو اونٹ یا ایک ہزار دینار یا بارہ ہزار درہم امام شافعی کا پہلا قول تو یہ ہی تھا مگر ان کا دوسرا قول یہ ہے کہ دیت میں اصل تو اونٹ ہیں باقی درہم و دینار اونٹ کی قیمت کے برابر ہوں گے یہ حدیث ان کی دلیل ہے۔

۳؎ بعض روایات میں صرف غلت ہے بغیر شد کے،یہ غلاء سے بنا ہے بمعنی قیمت چڑھ جانا اسی لیے مہنگی چیز کو غالی اور سستی کو رخیص کہتے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ سے اب اونٹوں کی قیمت زیادہ ہوگئی۔ قال کا فاعل عمرو ابن شعیب کے دادا عمرو ابن عاص ہیں،دیکھو مرقات یہ ہی مقام۔

۴؎ یعنی حضرت عمر نے دیت میں سو اونٹ کی قیمت بجائے آٹھ سو دینار کے ایک ہزار دینار لگائی اور چاندی کے بجائے آٹھ ہزار درہم کے دس ہزار لگائی کیونکہ اب سو اونٹوں کی یہ ہی قیمت تھی ایک اونٹ دس دینار کا یا ایک سو بیس درہم کا۔خیال رہے کہ دیت میں ایک ہزار اشرفیاں واجب ہیں یا دس ہزار درہم کیونکہ ایک اشرفی دس درہم کی ہوتی ہے یہاں بارہ ہزار وہ درہم ہیں جو دس ماشہ کے ہوتے ہیں،یہ درہم ہزار دینار میں بارہ ہزار ہوتے ہیں لہذا حدیث میں تعارض نہیں درہم مختلف قیمت کے ہیں۔

۵؎ خیال رہے کہ بعض اماموں نے فرمایا کہ دیت میں سو اونٹ واجب ہیں اور اگر دینار یا دراہم سے دیت دینا ہے تو جو اس وقت سو اونٹ کی قیمت ہو وہ دی جائے مگر ہمارے امام صاحب فرماتے ہیں کہ دیت، اونٹ،سونے،چاندی سے ادا کی جائے یا سو اونٹ دیئے جائیں یا ایک ہزار دینار یا دس ہزار درہم،امام مالک کے ہاں حکم یہ ہے کہ اگر قاتل دیہاتی ہے جانوروں والا تو سو اونٹ دلوائے جائیں،اگر شہری اور اس شہر میں سونے کا سکہ چلتا ہے تو ہزار دینار دلوائے جائیں اور اگر شہر میں چاندی کے سکہ کا عام رواج ہے تو بارہ ہزار درہم دلوائے جائیں،امام احمد اور صاحبین کا قول ہے کہ دیت اونٹ،سونا چاندی،گائے،بکری،جوڑے سب سے ادا کی جاسکتی ہے ان کی دلیل یہ حدیث ہے،امام ابوحنیفہ کی دلیل بیہقی کی روایت ہے جو یہاں مرقات نے نقل فرمائی لہذا امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک اگر قاتل نے مقتول کے وارثوں سے بکریوں یا جوڑوں یا گایوں میں کم و بیش پر صلح کرلی تو درست ہے،صاحبین کے ہاں درست نہیں۔

۶؎ لہذا ذمیوں کی دیت وہ ہی چار سو دینار یا چار ہزار درہم وہی اس حساب سے ذمی کی دیت چاندی سے مسلمان کی دیت سے تہائی ہوئی،یہ ہی بعض علماء کا قول ہے کہ ذمی کی دیت مسلمان کی دیت سے تہائی ہے، ہمارے ہاں مسلمان و ذمی دونوں کی دیت برابر ہے ہماری دلیل وہ حدیث ہے فدماءھم کدماءنا الخ یعنی مسلمان اور ذمی کافروں کے خون و مال کا یکساں حکم ہے اسی لیے اگر کوئی مسلمان ذمی کافر کا مال چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
Flag Counter