| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت حضرت خشف ابن مالک سے ۱؎ وہ حضرت ابن مسعود سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے خطاء کی دیت میں یہ فیصلہ فرمایا کہ بیس یک سالہ اونٹنیاں۲؎ اور بیس یک سالہ نر اونٹ اور بیس دو سالہ اونٹنیاں اور بیس تین سالہ اور بیس چار سالہ ۳؎ (ترمذی،ابوداؤد،نسائی)صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث حضرت ابن مسعود پر موقوف ہے ۴؎ اور خشف مجہول آدمی ہیں صرف اس حدیث سے پہچانے گئے ہیں۵؎ اور شرح سنہ میں یوں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے خیبر کے مقتول کی دیت صدقہ سے سو اونٹ دیئے اور صدقہ کے اونٹوں کی عمروں میں کوئی ایک سالہ نر اونٹ نہیں ہوتا اس میں دو سالہ اونٹ ہی ہوتے ہیں۶؎
شرح
۱؎ آپ طائی ہیں،تابعی ہیں،اپنے والد اور حضرت عمر اور ابن مسعود سے روایات لیتے ہیں،نسائی نے آپ کو ثقہ کہا۔(مرقات)خشف خ کے کسرہ اور ش کے سکون سے ہے۔ ۲؎ لفظ بنت مخاض کبھی نر و مادہ دونوں اونٹوں پر بولا جاتا ہے مگر یہاں مادہ یکسالہ اونٹنی مراد ہے کیونکہ نر کا ذکر آگے آرہا ہے۔ ۳؎ یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے قتل خطاء کی دیت سو اونٹ ہیں مگر پانچ حصوں سے جو یہاں مذکور ہیں، امام شافعی کے ہاں بھی پانچ ہی حصے ہیں مگر ان کے ہاں بجائے بیس ابن مخاض کے بیس ابن لبون ہیں یہ حدیث ہماری دلیل ہے۔ ۴؎ الحمدﷲ! کہ مؤلف رحمۃ اﷲ علیہ نے حدیث موقوف کو صحیح مانا ہے اور اس قسم کی موقوف حدیث حکم میں مرفوع حدیث کے ہے کیونکہ تعداد و مقدار اپنی رائے سے نہیں مقرر کی جاسکتی ضرور حضرت ابن مسعود نے یہ تعداد حضور سے سن کر بیان فرمائی ہے۔ ۵؎ خشف ہرگز مجہول نہیں کیونکہ یہ خشف اپنے والد مالک طائی و ابن مسعود سے روایت لیتے ہیں اور جب ان سے یہ حدیث مروی ہوئی تو اگرچہ وہ مشہور تو نہ ہوئے مگر مجہول بھی نہ رہے،نیز خشف کی توثیق نسائی، ابن حبان،زید ابن جبیرحسمی اور ابن معین نے کی ہے۔(مرقات)بخاری نے اپنی تاریخ میں فرمایا کہ خشف ابن مالک نے حضرت عمر اور ابن مسعود سے احادیث سنی ہیں،نیز جب یہ حدیث موقوفًا صحیح ہے تو مرفوعًا یہ حرج مضر نہیں۔ ۶؎ مقصد یہ ہے کہ خطاء کی دیت میں ابن مخاض نہ چاہیے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک موقعہ پر جب کہ ایک مسلمان خیبر میں شہید کیا گیا تھا اور قاتل کا پتہ نہ لگا تھا تو مقتول کی دیت سو اونٹ بیت المال سے ادا فرمائی تھی مقتول کے وارثوں کو اور مسئلہ فقہیہ ہے کہ اونٹ کی زکوۃ میں ابن مخاض لیا جاتا ہی نہیں تو اگر دیت میں ابن مخاض یعنی یک سالہ نر اونٹ ہوتا تو آپ زکوۃ کے اونٹ سے کیسے ادا فرماتے کہ یہ تو زکوۃ اونٹ میں ابن مخاض ہوتا ہی نہیں مگر اس دلیل پر دو بحث ہیں:ایک یہ کہ یہ دیت نہ تھی محض کرم و مہربانی تھی ورنہ دیت قاتل پر ہوتی ہے نہ کہ بیت المال پر،وہاں قاتل کا پتہ لگا ہی نہ تھا پھر دیت کیسی۔ دوسرے یہ کہ وہاں خیبر میں قتل خطاءً نہ ہوا تھا قتل عمدًا تھا اور واقعی قتل عمد کی دیت میں ابن مخاض نہیں لیا جاتا ہماری گفتگو قتل خطاء کی دیت میں ہے لہذا یہ حدیث امام اعظم کے خلاف نہیں۔خیال رہے کہ اس موقعہ پر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ سو اونٹ فقراء کی تملیک کے بعد دیت میں دیئے تھے ورنہ صدقہ و زکوۃ کے اونٹ فقراء کا حق ہے یہ دیت میں نہیں دیئے جاتے۔(ازمرقات مع زیادۃ)