| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا تو فرمایا اے لوگو اسلام میں حلیف بنانا کچھ نہیں ۱؎ اور جو حلف زمانہ جاہلیت میں ہوچکا ہو تو اسلام اس کی پختگی ہی بڑھائے گا ۲؎ مگرمسلمان آپس میں دوسرے کے مقابل مددگار ہیں ۳؎ کہ ان کا ادنی آدمی امان دے سکتا ہے ۴؎ اور ان کا دور کا آدمی غنیمت واپس کرسکتا ہے ۵؎ ان کے لشکر ان کے بیٹھے ہوؤں پر رد کریں گے ۶؎ نہ قتل کیا جائے مؤمن کافر کے عوض ۷؎ اور کافر کی دیت مسلمان کی دیت سے آدھی ہے۸؎ نہ منگانا ہے اور نہ دور لے جانا ان کے صدقات نہ وصول کیے جائیں مگر ان کے گھروں میں ۹؎ اور ایک روایت میں ہے فرمایا کہ ذمی کی دیت آزاد کی دیت سے آدھی ہے ۱۰؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ حلف ح کے کسرہ سے ہے بمعنی معاہدہ اسی سے ہے تحالف۔زمانہ جاہلیت میں بعض لوگ یا بعض قومیں دوسرے لوگوں یا قوموں سے معاہدہ کرلیتے تھے کہ آج تیرا خون میرا خون ہے تیری جان میری جان ہے تیرا مال میرا مال ہے کہ ہم میں سے جس پر حملہ ہو دوسرا مدد کرے یا ہم میں سے جوبھی کسی سے لڑے تو دوسرا امداد دے جس سے صلح کرے دوسرا صلح میں شریک ہو ہر ایک دوسرے کا بعد موت وارث ہوگا میری دیت تو دے گا تیری میں دوں گا میرا بدلہ تو لے گا تیرا میں لوں گا،ایسے لوگوں یا ایسی قوموں کو حلیف کہتے تھے۔شروع اسلام میں اس قسم کے معاہدے جاری رہے کہ ان کے ذریعہ لوگوں کے جان و مال محفوظ تھے ان کے بغیر کوئی شخص یا قوم محفوظ نہ رہ سکتے تھے۔فتح مکہ کے سال اس کو منسوخ کردیا گیا کہ ملکی حالات بدل چکے تھے لوگوں کے مال و جان محفوظ ہو گئے تھے۔ ۲؎ یعنی نئے معاہدے و حلف کرو مت،پچھلے معاہدے پورے کردو کہ وعدہ پورا کرنا ضر وری ہے،بعض شارحین نے فرمایا کہ اصل حلف اب بھی باقی ہے مگر حلف کی دو چیزیں منسوخ ہوگئیں ایک میراث کہ یہ رشتہ داروں کو ملے گی نہ کہ حلیف کو اور ایک تنا صرکہ اپنے حلیف کی ظلم پر مدد کرنا کہ اگرچہ وہ ظالم ہو اس کو مدد دینا،یہ ممنوع ہے۔(مرقات)بہرحال مظلوم کی اعانت پر معاہدہ اچھا ہے،قتل و غارت ڈکیتی ظلم پر معاہدہ سخت جرم ہے۔اس جملہ آخری کا یہ ہی مطلب ہے کہ جاہلیت کے معاہدہ کا اتنا حصہ باقی ہے کہ مظلوم کی اعانت ہو دوسرا حصہ ممنوع۔ ۳؎ یعنی اسلام خود ایک حلف و معاہدہ ہے کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان مظلوم کی مدد کرے،اسلام نے مشرقی مغربی جنوبی شمالی مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا کر ان میں عالمگیر اخوت پیدا فرمادی،اس سے بہتر کون سا حلف ہے اورکون سا معاہدہ ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوۡنَ اِخْوَۃٌ"۔ ۴؎ یعنی اگر معمولی مسلمان کسی کافر کو امان دے دے تو تمام مسلمانوں پر اس کی امان کا احترام لازم ہے کہ پھر اسے نہ قتل کریں نہ لوٹیں۔خیال رہے کہ بحالت جنگ اگر سپہ سالار اعلان کردے کہ بغیر میری اجازت کسی کافر کو امان نہ دی جائے تو پھرکسی سپاہی وغیرہ کو امان دینے کا حق نہیں ورنہ پھر تو کفار نواز مسلمان تمام کفار کو امان دے کر مسلمانوں کو تباہ کرادیں گے۔ ۵؎ دوران جنگ اگر لشکر اسلام بحالت جنگ غنیمت حاصل کرے تو اس غنیمت میں اس لشکر کا بھی حصہ ہوگا جو یہاں سے دور ہے کہ وہ ان کی پشت و پناہ تھا،اس کا یہ مطلب نہیں کہ کفار سے چھنا ہوا مالِ غنیمت معمولی مسلمان واپس کرسکتا ہے کہ غنیمت تو تمام غازیوں کی ملک ہوچکی ہے۔ ۶؎ یعنی جنگ کرنے والا لشکر جو غنیمت حاصل کرے گا اس میں اس لشکر کا بھی حصہ دے گا جو ان کفار کے ملک میں بیٹھا ہوا ہے اگرچہ جنگ نہ کررہا ہے کیونکہ یہ لشکر ان مجاہدوں کی پشت و پناہ ہے بوقت ضرورت ان کی مدد کرتا،قعدہ کے معنے ہیں بیٹھے ہوئے سپاہی مورچوں میں۔ ۷؎ احناف کے نزدیک یہاں کافر سے مراد کافر حربی ہے یعنی حربی کافر کو اگر مسلمان قتل کرآئے یا قتل کرڈالے تو اس پر قصاص نہیں،امام شافعی کےہاں ذمی ومستامن کافر کو قتل کردینے پر بھی مسلمان سے قصاص نہیں لیا جائے گا ان کے ہاں کافر سے مراد مطلقًا کافر ہے مگر امام اعظم کا فرمان قوی ہے،حضور ذمی کفار کے متعلق فرماتے ہیں فدماء ھم کدماءنا ان کے خون ہمارے خون کی طرح ہیں۔ ۸؎ امام مالک و احمد کے ہاں کافر ذمی کی دیت مسلمان کی دیت سے آدھی ہے یعنی پچاس اونٹ،امام شافعی کے ہاں تہائی ہے یعنی۳۳-۳/۱ اونٹ مگر امام اعظم کے ہاں پوری دیت ہے سو اونٹ،امام اعظم کی دلیل وہ ہی حدیث ہے فدماءھم کدماءنا۔حضرت ابوبکروعمر و عثمان نے ذمی کی دیت ہزار دینار دلوائی یعنی پوری دیت،حضرت علی نے فرمایا کہ ذمی کفار نے جزیہ اسی لیے دیا کہ ان کا خون ہمارے خون کی مثل ہوجائے۔ دارقطنی نے ابن شہاب سے روایت کی کہ حضرت صدیق و فاروق یہودی عیسائیوں کی دیت مسلم مقتول کے برابر دلواتے تھے،ابوداؤد نے اپنی مراسیل میں ربیعہ ابن عبدالرحمن سے روایت کی کہ حضرت ابوبکروعمر و عثمان نے کفار ذمیوں کی دیت مسلمان کے برابر رکھی،حضرت معاویہ نے اپنی شروع امارت میں یوں ہی کیا پھر بعد میں آپ نے آدھی دیت مقتول کے وارثوں کو دلوائی اور آدھی بیت المال میں داخل فرمائی۔(مرقات و اشعہ)ابن ابی شیبہ نے علقمہ،مجاہد،عطاء،شعبی،نخعی،زہری وغیرہم سے یہ ہی روایت کی کہ ذمی کافر کی دیت مسلم کے برابر ہے،یہ حدیث منسوخ ہے۔(مرقات) ۹؎ اس کی شر ح کتاب الزکوۃ میں گزرچکی کہ عامل نہ تو یہ کرے کہ ایک جگہ بیٹھ جائے اور مال والوں کے جانور وغیرہ وہاں ہی منگاکر ان کی زکوۃ وصول کرے نہ مال والے عامل کی خبر سن کر اپنے مال دور بھیج دیں تاکہ عامل کو زکوۃ وصول کرنے میں دشواری ہو بلکہ مال و جانور اپنی جگہ رہیں عامل وہاں ہی پہنچ کر زکوۃ وصول کرے۔ ۱۰؎ یعنی ذمی غلام کی دیت آزاد ذمی یا آزاد مسلمان کی دیت سے آدھی ہے لہذا یہ فرمان امام اعظم کے خلاف نہیں کہ غلام کی دیت آزاد سے آدھی ہوتی ہے اور اگر معاہد سے مراد ذمی آزاد ہے تو اس کے جواب وہ ہی ہیں جو ابھی گزر گئے۔