۱؎ مواضح جمع ہے موضحہ کی۔موضحہ وہ زخم ہے جو ہڈی کھول دے اس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔
۲؎ یعنی اگر ایک ایک دانت علیٰحدہ علیٰحدہ توڑے تو فی دانت پانچ اونٹ واجب ہیں لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں جہاں فرمایا گیا تھا کہ دانتوں میں پوری دیت یعنی سو اونٹ واجب ہیں کہ وہاں یکدم سارے دانت توڑنا مراد تھا۔
۳؎ یعنی ابن ماجہ و ترمذی نے مواضح زخموں کی روایت فرمائی انہوں نے دانتوں کا ذکر نہ کیا،ابھی عرض کیا گیا کہ یہ تمام تفصیل خطاءً توڑدینے میں ہے۔خیال رہے کہ شجاج اور جراحت میں قصاص نہیں،شجاج سر کا وہ زخم جو آر پار نہ ہو،جراحت باقی جسم کا معمولی زخم جس سے ہڈی نہ کھلے نہ منتقل ہو۔(مرقات)چنانچہ عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں حضرت حسن وعمر ابن عبدالعزیز سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے موضحہ سے کم زخم میں کوئی فیصلہ نہ فرمایا،نیز ایسے زخم کے قصاص میں برابری غیرممکن ہے۔(مرقات)