Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
401 - 1040
حدیث نمبر401
روایت ہے حضرت ابوبکر ابن محمد ابن عمرو ابن حزم سے ۱؎ وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے یمن والوں کو فرمان عالی لکھا اور اس کتاب میں تھا کہ جس نے کسی مسلمان کو بلاقصورقتل کیا ۲؎ یا تو وہ اپنے ہاتھ کے قصاص میں گرفتار ہوگا مگر یہ کہ مقتول کے وارثوں کو راضی کرے۳؎ اور اس میں یہ تھا کہ مرد عورت کے عوض قتل کیا جائے گا۴؎ اور اس میں یہ تھا کہ جان میں دیت ہے سو اونٹ ۵؎ اور سونے والوں پر ہزار دینار ۶؎ اور ناک میں جب پوری کاٹ دی جائے پوری دیت سو اونٹ ہیں ۷؎ اور دانتوں میں دیت ہے ۸؎ اور ہونٹوں میں دیت ہے اور فوطوں میں دیت ہے اور آلہ تناسل میں دیت ہے ۹؎ اور پیٹھ میں دیت ہے ۱۰؎ اور آنکھوں میں دیت ہے ۱۱؎  اور ایک پاؤں میں آدھی دیت ہے ۱۲؎ اور مغز تک پہنچنے والے زخم میں تہائی دیت ہے او رپیٹ میں پہنچنے والے زخم میں تہائی دیت ہے ۱۳؎ اور ہڈی منتقل کردینے والے زخم میں پندرہ اونٹ ہیں۱۴؎  اور ہاتھ پاؤں کی انگلیوں میں سے ہر انگلی میں دس اونٹ ہیں ۱۵؎ اور دانت میں پانچ اونٹ ہیں ۱۶؎ (نسائی،دارمی) اور امام مالک کی روایت میں ہے کہ آنکھ میں پچاس اونٹ ہیں اور ہاتھ میں پچاس اونٹ اور پاؤں میں پچاس اونٹ ۱۷؎ اور ہڈی کھول دینے والے زخم میں پانچ ۱۸؎
شرح
۱؎ آپ کا نام محمد ابن ابی بکر ابن عمرو ابن حزم انصاری ہے،صاحب مشکوۃ نے باب الفرائض میں ان کا نام یوں ہی بیان کیا ہے یہاں الٹا فرما گئے،ابوبکر ابن محمد اور محمد ابن ابوبکر تابعی ہیں عمرو ابن حزم صحابی ہیں،ان کا لقب ضحاک ہے،انصاری ہیں،غزوہ خندق میں شریک ہوئے،اس وقت آپ کی عمر پندرہ سال تھی،    ۱۰ھ؁ میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے آپکو نجران کا حاکم بنایا۔(مرقات)اشعہ نے اس اختلافِ بیان کی اور وجہ بیان فرمائی۔

۲؎ عبت و اعتباط کے معنے ہیں جانور کو بغیر کسی بیماری وغیرہ کے ذبح کردینا،یہاں مراد ہے بلا قصورمسلمان کو قتل کردینا عمدًا یعنی دیدہ ودانستہ۔

۳؎ قود کے معنے ہیں اطاعت و فرمانبرداری اسی لیے مطیع اونٹ کو منقاد کہتے ہیں،اور ہر اطاعت کو انقیاد،اب قصاص کو قود اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں قاتل اپنے کو مقتول کے وارثوں کے حوالے کردیتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ قتل عمد میں قاتل پر قصاص واجب ہے لیکن اگر مقتول کے وارث دیت قبول کرلیں تو دیت ہے اور اگر بالکل معاف کردیں تو نہ قصاص ہے نہ دیت تو یہ بھی کرسکتے ہیں۔

۴؎ اس پر ساری امت کا اجماع ہے کہ قصاص میں عورت و مرد کا فرق نہیں،قاتل مرد ہو مقتولہ عورت یا برعکس قصاص واجب ہے۔

۵؎ کہ قتل عمد میں اگر دیت دی جائے تو سو اونٹ اور قتل خطاء و شبہ عمد میں تو سو اونٹ ہی واجب ہیں کہ ان میں قصاص نہیں ان کی تفصیل ابھی گزر گئی۔

۶؎ یعنی واجب تو سو اونٹ ہی ہیں  لیکن اگر وہ قاتل بجائے اونٹ کے دینار دے تو ایک ہزار اشرفیاں دے اگر اونٹ دینے پر قادر ہو جب بھی سونا دے سکتا ہے،یہ ہی امام اعظم کا مذہب ہے،امام مالک کے ہاں سونے والا دینار ہی دے گا اونٹ نہ دے گا،امام شافعی کے ہاں اونٹ ہی دے گا سونا نہ دے گا ہاں اگر وارثین مقتول سونا لینے پر راضی ہوجائیں تو سونا دے یہ حدیث مذہب حنفی کی تائید کررہی ہے۔

 ۷؎ خیال رہے کہ اگر کسی عضو کے کٹ جانے سے نفع یا جمال جاتا رہے توا س میں پوری دیت واجب ہوتی ہے جان کی دیت کی برابر یعنی سو اونٹ کیونکہ یہ ایک معنے سے جان ضائع کردیتاہے۔

۸؎ یعنی اگر کسی کے تمام دانت توڑ دے تو اس کی پوری دیت سو اونٹ دے گا کہ اس صورت میں منفعت و جمال دونوں ختم کردے۔ایک دانت میں دیت کا بیسواں حصہ یعنی پانچ اونٹ واجب ہیں جو دانت توڑے یا داڑھ یا کیل یہ حکم خطاء توڑنے کا ہے،عمدًا توڑے گا تو قصاص واجب ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"السِّنَّ بِالسِّنِّ" اگر ایک ایک کرکے سارے دانت توڑ دے تو ان کی دیت سولہ ہزار درہم ہے یعنی جان کی دیت سے زیادہ یہ دانتوں کی خصوصیت ہے کہ ان کی دیت جان کی دیت سے بڑھ جاتی ہے،ہاں اگر کوئی بچے کے دانت توڑ دے تو چودہ ہزار ہے واجب کہ اس کے اٹھائیس دانت ہوتے ہیں،امام شافعی کے ہاں بیس دانت توڑنے میں پوری دیت ہے زیادہ توڑنے میں زیادتی پر کچھ نہیں۔(مرقات)

۹؎ یعنی اگر کسی کے دونوں ہونٹ یا دونوں فوطے یا ذکر کاٹ دیا تو پوری دیت واجب ہے کہ اس صورت میں منفعت پوری ضائع کردی۔

۱۰؎ یعنی اگر کسی کی پیٹھ توڑ دی اور اس کا پانی یعنی منی خشک ہوگئی تو پوری دیت واجب ہے۔

۱۱؎ یعنی اگر دونوں آنکھیں نکال دیں یا پھوڑ دیں تو پوری دیت واجب ہے کہ اس صورت میں دیکھنے کی منفعت بالکل جاتی رہی اگر ایک آنکھ پھوڑ دی آدھی دیت۔زمانہ فاروقی میں ایک شخص نے کسی کو ایسی چوٹ ماری کہ اس کی نظر،سننے کی طاقت،عقل،کلام سب زائل ہوگئی تو حضرت عمر نے اس پر چار دیت لازم کیں۔(مرقات و اشعہ)

۱۲؎ یوں ہی ایک ہاتھ ایک آنکھ ایک کان ضائع کردینے میں آدھی دیت واجب ہے۔

۱۳؎ یعنی اگر پیٹ میں ایسا زخم لگایا جو آر پار ہوگیا یا دماغ میں ایسی چوٹ لگائی کہ زخم ام الدماغ تک پہنچ گیا تو تہائی دیت یعنی۳۳- ۳/۱  اونٹ واجب ہے۔

۱۴؎ یعنی ایسی چوٹ ماری کہ ہڈی اپنی جگہ سے ہٹ گئی تو اس میں سے پندرہ اونٹ واجب ہیں،یہ احکام تعبدی ہیں جن میں عقل کو دخل نہیں۔

۱۵؎ یعنی ہاتھ یا پاؤں کی چھنگلی توڑے یا انگوٹھا سب کی دیت یکساں ہے دس اونٹ چھوٹی بڑی کا اعتبار نہیں۔

۱۶؎ دانت کی دیت کی تفصیل ابھی عرض کی جاچکی ہے،ہر دانت میں پانچ اونٹ یا پانچ سو درہم واجب ہیں دانت خواہ کوئی سا ہو۔(اشعہ)

۱۷؎ یعنی جو اعضاء بدن میں دو ہیں اگر ان میں سے ایک کو بے کار کردے تو اس پر آدھی دیت ہے،اگر دونوں کو بے کار کردے تو پوری دیت۔

۱۸؎ یعنی اگر ایسا زخم لگایا کہ اس سے کھال و گوشت کٹ گیا ہڈی کھل گئی تو اس میں پانچ اونٹ لازم ہیں۔خیال رہے کہ زبان کاٹ دینے یا داڑھی مونڈ دینے میں پوری دیت یعنی سو اونٹ واجب ہیں۔(اشعہ ومرقات) مگر افسوس کہ اب تو مسلمان خود ہی داڑھیاں منڈاتے ہیں ان سے خود ان کی اپنی داڑھیوں کی دیت کون لے،داڑھی میں مرد کا جمال ہے جس کے زائل کردینے پر پوری دیت واجب ہے۔
Flag Counter