روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا خبردار کہ خطا شبہ عمد کی دیت ۱؎ جو کوڑے اور لاٹھی سے ہو ۲؎ ایک سو اونٹ ہیں جن میں چالیس وہ ہوں جن کے پیٹ میں ان کے بچے ہوں ۳؎ (نسائی،دارمی)اور اسے ابوداؤد نے ان ہی سے اور حضرت ابن عمر سے روایت کیا اور شرح سنہ میں مصابیح کے الفاظ حضرت ابن عمر سے مروی ہیں۔
شرح
۱؎ یہاں شبہ العمد یا تو خطا کی صفت کا شفہ ہے کہ الخطا بھی معرفہ ہے اور شبہ العمد بھی معرفہ باالخطا جنس ہے اور شبہ العمد اس کی ایک قسم و نوع یا شبہ العمد لفظ الخطاء کا بدل ہے۔بہرحال مطلب یہ ہی ہے کہ یہاں خطاء سے مراد شبہ عمد ہے اور قتل خطاء اس جگہ مراد ہے۔ ۲؎ اس عبارت میں ما یا موصولہ ہے یا موصوفہ اور یہ عبارت خطا اور شبہ عمد دونوں کی تفسیر ہے اِنّ کی خبر نہیں خبر تو آگے آرہی ہے۔خیال رہے کہ احناف کے ہاں قتل کی تین قسمیں ہیں:قتل عمد،قتل شبہ عمد،قتل خطاء۔قتل عمد یہ ہے کہ دھاردار آلہ مار دینے والے اوزار سے باارادۂ قتل حملہ کیا جائے اور اس سے قتل واقع ہو،اس کی سزا قصاص ہے۔شبہ عمد یہ ہے کہ قاتل باارادۂ قتل ایسے اوزار سے حملہ کرے جو قتل کے لیے بنا نہیں اور اس سے قتل کردے جیسے قتل کے ارادے سے زور سے کیل یا لوہے کا قلم آنکھ میں گونپ دے جو دماغ تک پہنچ کر مقتول کا کام تمام کردے یا بہ ارادۂ قتل فوطے پر زور سے گھونسہ یا لکڑی مار دے اور موت واقع ہوجائے،ان دونوں صورتوں کے سواء اور قتل خطاء ہے جیسے بغیر ارادۂ قتل کسی کے قمچی یا گھونسہ مارا اتفاقًا نازک جگہ لگ گیا موت واقع ہوگئی یا جانور کے گولی ماری تھی کسی آدمی کے لگ گئی۔امام مالک کے ہاں قتل کی صرف دو قسمیں ہیں:قتل عمد اور قتل خطاء،وہ شبہ عمد کو نہیں مانتے،وہ اس حدیث سے دلیل پکڑتے ہیں کہ یہاں شبہ عمد کو خطا کی تفسیر بتایا گیا اسے علیٰحدہ قسم نہ مانا گیا،امام صاحب کے ہاں یہاں لاٹھی سے ہر ہلکی لکڑی بھاری لاٹھی مراد ہے۔اور مطلب حدیث کا یہ ہے کہ قتل غیرعمد خواہ شبہ عمد ہو یا قتل خطاء بھاری لاٹھی سے ہو یا پتلی قمچی سے ان میں قصاص نہیں دیت ہے،امام مالک کے ہاں یہاں لاٹھی سے مراد صرف ہلکی لکڑی ہے جس کو عمدًا قتل کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا،امام ابوحنیفہ کی دلیل قوی ہے کہ یہاں عصا مطلق ہے۔ ۳؎ تمام اماموں کا اس پر اتفاق ہے کہ قتل عمدًا میں مقتول کے وارث دیت پر راضی ہوجائیں اور قصاص چھوڑ دیں تو اس کی دیت مغلظہ(سخت)ہے اور قاتل کے مال سے ادا کی جائے گی مگر قتل شبہ عمد میں دیت مغلظہ (سخت)ہے مگر قاتل کے عصبہ وارث بہ آہستگی ادا کریں گے اورقتل خطاء میں دیت مخففہ(ہلکی)ہے جو قتل کے عصبہ وارث بہ آہستگی دیں گے دیت کا ہلکا یا سخت ہونا اونٹوں کی عمر کے لحاظ سے ہوتا ہے۔چنانچہ امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف،امام احمد کے ہاں دیت غلیظہ یہ ہے کہ انٹوں کی چارقسمیں کی جائیں:پچیس اک سالہ اونٹنیاں،پچیس دو سالہ،پچیس تین سالہ اور پچیس چار سالہ اور دیت خفیفہ میں ان اونٹنیوں کی پانچ قسمیں کردی جائیں:بیس ایک سالہ،بیس دو سالہ اونٹنیاں،بیس ایک سالہ اونٹ نر،بیس تین سالہ،بیس چار سالہ اونٹنیاں،یہ حدیث امام شافعی کی دلیل ہے۔امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا تعارض ہے حضرت ابن مسعود اور حضرت سائب ابن یزید کی حدیث سے لہذا یہ حدیث مشکوک ہے،وہ احادیث متیقن،ہم نے یقینی احادیث کو لیا،اس کی تفصیل یہاں مرقات و اشعۃ اللمعات میں اور کتب فقہ میں ملاحظہ کیجئے۔