Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
395 - 1040
حدیث نمبر395
روایت ہے حضرت ابن عمر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جب کوئی شخص کسی کو پکڑے اور دوسرا اسے قتل کردے تو قتل کرنے والا قتل کیا جائیگا اور جس نے پکڑ رکھا وہ قید کیا جائے گا ۱؎(دارقطنی)
شرح
۱؎ حضرت امام مالک فرماتے ہیں کہ اگر پکڑنے والے کا خیال یہ تھا کہ یہ شخص اسے مارے گا مگر قتل نہ کرے گا مگر اس نے قتل کردیا تب تو یہ حکم ہے جو یہاں مذکور ہے کہ حاکم اس پکڑنے والے کو عمر بھر کی قید دیدے یا جب تک چاہے قیدکردے لیکن اگر اس پکڑنے والے کو یقین تھا کہ یہ قتل کردے گا پھر پکڑا تو پکڑنے والا بھی قتل کیا جائے گا لہذا یہ حدیث گزشتہ احادیث کے خلاف نہیں۔ہمارے امام صاحب کے ہاں بہرصورت پکڑنے والا تعزیرًا قید ہی کیا جائے گا اور یہ قید قاضی کی رائے کے مطابق قید کیا جائے گا،اس طرح اگر کوئی کسی کو شیر یا سانپ کے آگے ڈال دے وہ جانور اسے ہلاک کردے تو ہمارے ہاں یہ ڈالنے والا قید کیا جائے گا لیکن تعزیرًا قاضی اسے قتل بھی کراسکتا ہے۔
حدیث نمبر695
روایت ہے حضرت ابو مسعود انصاری سے فرماتے ہیں ایک شخص جہاد والی اونٹنی لایا ۱؎ عرض کیا یہ اﷲ کی راہ میں ہے ۲؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس کے عوض تجھے قیامت کے دن سات سو اونٹنیاں ملیں گی جو۳؎سب کی سب مہار والی ہوں گی۔ (مسلم)
شرح
۱؎ کبھی خطام بمعنی زمام آتا ہے یعنی مہار،لمبا رسہ،نکیل جس کا ایک کنارہ اونٹ کی ناک میں ہوتا ہے دوسرا مالک کے ہاتھ میں،کبھی خطام صرف نتھ کو کہتے ہیں اور زمام پوری مہارو نکیل کو،نتھ وہ رسی پتلی سی ہے جو ناک میں ڈال کر پورے سر سے گھما کر باندھ دی جائے،پھر اس رسی میں نکیل باندھی جاوے جیسے عمومًا گاؤں والے بیل بھینس کو باندھتے ہیں۔

۲؎ فقراء کے لیے یا مجاہدین غازیوں کے لیے،دوسرے معنی زیادہ موزوں ہیں اس لیے مؤلف یہ حدیث کتاب الجہاد میں لائے۔

۳؎ حق یہ ہے کہ حدیث بالکل ظاہری معنی پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں،اﷲ تعالٰی بطور اعزاز اہل جنت کو سواری کے لیے گھوڑے اونٹنیاں عطا فرمائے گا جن کی رفتار ہوا سے زیادہ ہوگی جیسے قربانی کرنے والوں کو صراط طے کرنے کے لیے سواری دی جائے گی۔بعض شارحین نے کہا کہ اس سے مراد ہے سات سو اونٹنیاں خیرات کرنے کا ثواب دے گا مگر یہ درست نہیں ورنہ پھر مہار والی ہونے کے کیا معنی،کیا ثواب کے بھی مہار ہوتی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ جہاد میں خرچ کرنے والوں کو زیادہ ثواب ملتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ تجھے اونٹ کے عوض سات سو اونٹ اور مہار کے عوض سات سو مہاریں عطا ہوں گی تیری کوئی خیرات ضائع نہ جاوے گی۔
Flag Counter