۱؎ یعنی جس شخص نے کسی سے اقتل امر کا آدھا کلمہ اُق بھی کہہ دیا اور قاتل نے اس مسلمان کو قتل کردیا تو مرتے وقت یا قبر میں یا قیامت میں اس کی پیشانی پر لکھا ہوگا کہ یہ شخص اﷲ کی رحمت سے مایوس ہے،اس طرح تمام قیامت میں بدنام ہو جائے گا،اگر اس شخص نے حلال جان کر قتل کیا تھا تو یہ لفظ آیس من رحمۃ اﷲ بالکل ظاہر ہے کہ یہ قاتل کافر ہوگیا اور کافر رب تعالٰی کی رحمت سے مایوس،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّہٗ لَا یَایۡـَٔسُ مِنۡ رَّوْحِ اللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوۡنَ"اور اگر نفسانی وجہ سے مارا تھا تو مایوس سے مراد انہیں رحمت سے مایوس ہے۔خیال رہے کہ حضور کی امت کی قیامت میں ضرور پردہ پوشی ہوگی مگر جو بندہ دنیا میں خود ہی علانیہ گناہ کرتا رہا ہو اس کی پردہ پوشی نہ ہوگی کہ اس نے خود اپنی پردہ دری کی۔