Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
394 - 1040
حدیث نمبر394
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ نے کہ جوکسی مسلمان کے قتل پر آدھی بات سے بھی مددکرے تو وہ اﷲتعالٰی سے اس حال میں ملے گا کہ اس کی دونوں آنکھوں کی درمیان لکھا ہوگا اﷲ کی رحمت سے ناامید ۱؎(ابن ماجہ)
شرح
۱؎ یعنی جس شخص نے کسی سے اقتل امر کا آدھا کلمہ اُق بھی کہہ دیا اور قاتل نے اس مسلمان کو قتل کردیا تو مرتے وقت یا قبر میں یا قیامت میں اس کی پیشانی پر لکھا ہوگا کہ یہ شخص اﷲ کی رحمت سے مایوس ہے،اس طرح تمام قیامت میں بدنام ہو جائے گا،اگر اس شخص نے حلال جان کر قتل کیا تھا تو یہ لفظ آیس من رحمۃ اﷲ بالکل ظاہر ہے کہ یہ قاتل کافر ہوگیا اور کافر رب تعالٰی کی رحمت سے مایوس،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّہٗ لَا یَایۡـَٔسُ مِنۡ رَّوْحِ اللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوۡنَ"اور اگر نفسانی وجہ سے مارا تھا تو مایوس سے مراد انہیں رحمت سے مایوس ہے۔خیال رہے کہ حضور کی امت کی قیامت میں ضرور پردہ پوشی ہوگی مگر جو بندہ دنیا میں خود ہی علانیہ گناہ کرتا رہا ہو اس کی پردہ پوشی نہ ہوگی کہ اس نے خود اپنی پردہ دری کی۔
Flag Counter