Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
396 - 1040
باب الدیات

دیتوں کاباب  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎ دیتٌ بنا ہے ودیٌ سے بمعنی بہنا اسی لیے جنگل کو وادی کہتے ہیں کہ وہاں بارش میں پانی بہتا ہے۔ودیٌ کا واؤ گراکر اس کے عوض کی ت آخر میں لگادی جیسے وزن سے زنۃ اور وعد سے عدۃ۔اب اصطلاح شریعت میں قتل یا زخم یا اعضاء کاٹنے کے عوض جو مال دیا جائے دیت کہلاتا ہے کیونکہ یہ مال خون بہانے کے عوض ہے۔احناف کے نزدیک قتل کی دیت سو اونٹ ہیں،اگر اونٹ نہ ملیں تو ایک ہزار اشرفیاں سونے کی یا دس ہزار درہم چاندی کے،ان تین چیزوں کے سوا اورکسی مال سے دیت نہیں،صاحبین کے ہاں گائے بکریوں بلکہ کپڑے کے جوڑوں سے بھی دیت دی جاسکتی ہے،دیت کی تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ فرمایئے۔
حدیث نمبر396
روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں یہ اور یہ برابر ہیں یعنی چھنگلی اور انگوٹھا ۱؎  (بخاری)
شرح
۱؎ یعنی ہاتھ یا پاؤں کی ہر ایک انگلی میں پوری دیت کا دسواں حصہ واجب ہے دس اونٹ،مگر انگلیوں کے احکام یکساں ہیں کہ اگر چھنگلیاں چھوٹی ہے انگوٹھا بڑا مگر دیت دونوں کی برابر ہے دس دس اونٹ،اگر کوئی شخص انگلی کا پورا کاٹے تو ایک انگلی میں تین پورے ہوتے ہیں لہذا ایک پورے میں دس اونٹ کا تہائی۳-۳/۱ اونٹ،ہاں انگوٹھے میں دو ہی پورے ہیں لہذا اس کا ایک پورا کاٹنے پر دس اونٹ کا آدھا پانچ اونٹ واجب ہوں گے۔ (اشعہ،مرقات)
Flag Counter