| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت جندب سے فرماتے ہیں کہ مجھے فلاں نے خبر دی ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ مقتول اپنے قاتل کو قیامت کے دن لائے گا ۲؎ پھر عرض کرے گا کہ اس سے پوچھ کہ مجھے کس جرم میں اس نے قتل کیا ۳؎ قاتل کہے گا کہ میں نے اسے فلاں کی سلطنت میں قتل کیا تھا ۴؎ جندب نے فرمایا کہ اس سے بہت ڈرو۵؎(نسائی)
شرح
۱؎ یعنی کسی خاص صحابی کا نام لیا جو راوی کو یاد نہ رہا مگر اس نام نہ لینے سے حدیث کی صحت پر کوئی اثر نہیں کیونکہ تمام صحابہ عادل ہیں۔(مرقات) ۲؎ بقاتلہ کی ب یا مصاحبت کی ہے یا تعدیہ کی یعنی اپنے قاتل کے ساتھ آئے گا یا قاتل کو لائے گا،اگر قاتل چند ہوں تو سب کو لائے گا۔ ۳؎ یعنی اس کا حساب بھی لے اور بعد حساب سزا بھی دے۔ ۴؎ جواب کا مقصد یہ ہے کہ خدایا اگرچہ جرمِ قتل تو میں نے کیا مگر میرے اس جرم میں فلاں بادشاہ یا فلاں حاکم کی حکومت کا بھی دخل ہے کیونکہ انہوں نے ملک کا انتظام اچھا نہ کیا جس سے ملک میں قتل و خون عام ہوگئے مجھے بھی اسی بد انتظامی کی وجہ سے قتل کی جرأت ہوئی تو میرے ساتھ انہیں بھی پکڑ چنانچہ وہ بادشاہ و حکام بھی اس قاتل کے ساتھ گرفتار ہوں گے۔اس سے موجودہ حکومتوں کو سبق لینا چاہیےاور ہوسکتا ہے کہ ملك میم کے کسرہ سے ہو یعنی میں نے اسے قتل کیا فلاں شخص کی ملکیت اور اس کے زیر اثر ہونے کی بنا پر کہ میں فلاں کا نوکر یا ماتحت تھا اس نے مجھ سے اسے قتل کرایا اسے بھی پکڑ۔اس سے معلوم ہوا کہ قتل کرنے والا کرانے والا قتل کی رغبت دینے والا سب ماخوذ ہوں گے۔ ۵؎ حضرت جندب کسی بادشاہ یا حاکم کو سمجھا رہے ہیں یہ حدیث سنا کر اس سے کہہ رہے ہیں کہ قتل کے معاملہ میں بہت احتیاط کرو کوشش کرو کہ تمہارے زمانہ میں قتل واقع نہ ہو ورنہ اس کا انجام یہ ہے۔