روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب ہے کہ حضرت عمر ابن خطاب نے ایک شخص کے عوض پانچ یا سات آدمیوں کو قتل کیاجنہوں نے اسے فریب سے قتل کردیا تھا ۱؎ اور حضرت عمر نے فرمایا کہ اگر سارے صنعاء والے اس پر مل جائیں تو میں ان سب کو قتل کردیتا۲؎(مالک)اور بخاری نے حضرت ابن عمر سے اس کی مثل روایت کی۔
شرح
۱؎ غلیہ غیل سے بنا بمعنی خفیہ،دھوکہ،فریب یعنی ان چند لوگوں نے خفیہ طور پر سازش کرکے ایک شخص کو قتل کردیا تھا۔ ۲؎ صنعاءیمن کی ایک بستی ہے۔مطلب یہ ہے کہ اگر ساری بستی والے مل کر اسی ایک شخص کو قتل کردیتے تو اس کے عوض ان سب کو قتل کردیتا۔معلوم ہوا کہ چند قاتل ایک قتل میں قتل کیے جائیں گے کہ سزا سب کی یہ ہی ہے۔