Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
391 - 1040
حدیث نمبر391
روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ نہیں ہے کوئی شخص کہ مصیبت پہنچائی جائے اس کے جسم میں پھر وہ اسے معاف کردے ۱؎ مگر بلندکرے گا اﷲ تعالٰی اس کا درجہ اور معاف کرے گا اس کی خطاء ۲؎ (ترمذی،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ یہاں مصیبت سے مراد کسی انسان مسلمان کی طرف سے زخم یا عضو کاٹنا یا کوئی اور تکلیف پہنچانا ہے آسمانی مصیبت یا قتل مراد نہیں ورنہ معاف کرنے کے کیا معنے،معافی سے مراد قصاص نہ لینا ہے خواہ دیت بھی نہ لے یا دیت لے لے مگر دیت بھی چھوڑ دینے کا ثواب زیادہ ہے اور دیت لے لینے کا ثواب کم۔خیال رہے کہ یہ مسلمان مجرم کے متعلق ہے،کافر مجرم سے ضرور بدلہ لیا جائے اسے معافی دینا یا اپنی کمزوری ہے یا اس مجرم کے لیے دروازہ کھولنا ہے۔

۲؎ یعنی اس معافی کی وجہ سے رب تعالٰی اسے معافی دے گا کیونکہ اﷲ کے بندوں پر رحم کرنا اﷲ تعالٰی کو بہت پسند ہے۔شعر

کرو مہربانی اہل زمیں پر	خدا مہربان ہوگا عرش بریں پر
Flag Counter