Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
389 - 1040
حدیث نمبر389
روایت ہے حضرت طاؤس سے ۱؎ وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جو بلوے میں قتل کیا گیا ۲؎ آپس کے پتھراؤ یا کوڑے بازی میں یا لاٹھی کی مار میں۳؎ تو وہ خطا ہے اور اس کی دیت خطا کی دیت ہے ۴؎ اور جو عمدًا قتل کیا گیاتو وہ قصاص ہے ۵؎ جو اس کے پیچھے حائل ہو تو اس پر اﷲ کی لعنت اور ناراضگی ہے اس کا نہ نفل قبول ہو نہ فرض ۶؎(ابوداؤد،نسائی)
شرح
۱؎ آپ کا نام ذکوان ابن کیسان ہے،خولانی ہمدانی یمانی ہیں،اصل باشندے فارس کے ہیں،یمن میں رہنے سہنے لگے تھے،بڑے عابد زاہد و مقبول الدعاء تابعی ہیں،چالیس حج کیے،بہت حسین جمیل تھے اسی لیےآپ کو طاؤس یعنی مور کہتے تھے،حضرت عبداللہ ابن عباس کے خاص صحبت یافتہ ہیں،  ۱۵۰ھ؁ میں مکہ معظمہ میں وفات پائی وہاں ہی دفن ہوئے۔

۲؎ عمیّۃ عمیٌ سے بنا بمعنی اندھا پن بلوے اور اژدہام کے قتل کو اس لیے عمیہ کہتے ہیں کہ اس میں قاتل معلوم نہیں ہوتا اندھا دھند مار پیٹ دو جماعتوں میں ہوتی ہے۔

۳؎ یہ تفصیل درحقیقت عمیۃ کا بیان ہے کہ بلوے کی جنگ خواہ لاٹھیوں کی ہو خواہ تیروگولی کی یا کوڑے ہنٹر کی سب کا حکم یہ ہی ہے۔

۴؎ یعنی اس قتل کا حکم قتل خطا کا سا ہے کہ اس میں کسی سے قصاص نہ لیا جائے گا صرف دیت لی جائے گی،یہ آخری جملہ خطا کا بیان ہے یا یہ مطلب ہے کہ اگر ایسی چیز سے کسی کو قتل کیا گیا جو قتل کے لیے تھی نہیں جیسے چھوٹے پتھر اور اس سے قتل واقع ہوگیا تو اس قتل کو شبہ عمد کہتے ہیں اس میں قصاص نہیں ہوتا دیت ہوتی ہے تو ثابت ہوا کہ قصاص کے لیے عمدًا قتل ضروری ہے،عمدًا میں آلہ دھار دار چاہیے۔(اشعہ)

۵؎  اس کے معنے ابھی بیان ہوچکے کہ قتل عمد میں قصاص ہے اور قصاص میں ارادہ قتل بھی چاہیے اور ہتھیار بھی قتل کا چاہیے۔

۶؎  صَرْف توبہ کو بھی کہتے ہیں اورنفلی عبادت کو بھی یعنی جو عام آدمی یا حاکم یا وکیل ایسے قاتل کو چھڑا دے کہ ولی مقتول کو قصاص وغیرہ نہ لینے دے تو وہ ظالم کا مددگار ہے اس کی سزا یہ ہے کہ اس کی توبہ و عبادت غیر مقبول ہیں اور وہ لعنت کا مستحق ہے۔
Flag Counter