Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
388 - 1040
حدیث نمبر388
روایت ہے حضرت ابو شریح خزاعی سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس کا خون کیا گیایا اس کو خیل کیا گیا یعنی زخمی ۲؎ تو اسے تین چیزوں میں سے ایک کا اختیار ہے اگر چوتھی چیز چاہے۳؎ تو اس کا ہاتھ پکڑو یا وہ قصاص لے لے یا معانی دے دے یا دیت لے لے۴؎ پھر اگر ان میں سے کوئی چیز اختیار کرے پھر اس کے بعد زیادتی کرے ۵؎ تو اس کے لیے آگ ہے جس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا ۶؎(دارمی)
شرح
۱؎ آپ کا نام خویلہ ابن عمرو کعبی عدوی خزاعی ہے،فتح مکہ کے دن ایمان لائے،اپنی کنیت میں مشہور ہوئے۔ (مرقات)

۲؎ عمدًا قتل و زخم مراد ہے کیونکہ خطاءً قتل و زخم میں قصاص نہیں ہوتا،قتل کی صورت میں تو ولی مقتول کو اختیار ہے اور زخم کی صورت میں خود مجروح کو اختیار ہے جیسا کہ ظاہر ہے۔

۳؎ مثلًا قصاص بھی لے اور دیت بھی چاہے یا معاف بھی کرے قصاص بھی لے،یہ اجتماع چوتھی صورت ہے یا مثلًا ظالم نے اس کی انگلی کاٹی تھی یہ مجروح اس کا پورا ہاتھ کاٹنا چاہے۔

۴؎ کس زخم کی کتنی دیت ہے اس کی تفصیل کتب فقہ میں ہے۔

۵؎ کہ معاف کرچکنے کے بعد قصاص یا دیت لے لے یا دیت کے بعد قصاص یا قصاص کے بعد دیت لے لے۔

۶؎ اگر اس نے یہ ظلم حلال سمجھ کر کیا تو اس کا دوزخ میں ہمیشہ ابد الاباد تک رہنا ظاہر ہے اور اگر حرام جان کر کیا تو یہاں خلود سے مراد بہت عرصہ تک دوزخ میں رہنا ہے کیونکہ دوزخ کی ہمیشگی صرف کفار کے لیے ہے۔
Flag Counter