۱؎ یعنی مسجد میں مجرموں کے فیصلے تو کرو مگر مسجدوں میں سزائیں نہ دو کہ اس میں مسجدوں کی بے حرمتی ہے کہ سزاؤں میں خون وغیرہ بھی نکلتا ہے جس سے مسجد خراب ہوگی،مسجدیں نماز،ذکر،درس وغیرہ کے لیے ہیں یہ کام ان کے خلاف ہے۔
۲؎ یعنی اگر باپ اپنے بیٹے کو ظلمًا قتل کردے تو اس کے عوض باپ کو قتل نہ کیا جاوے گا بلکہ اس سے دیت لی جائے گی،ماں،دادا،نانا سب کا یہ ہی حکم ہے۔یہ ہی مذہب ہے امام ابوحنیفہ و امام شافعی و احمد کا،امام مالک کے ہاں سب سے قصاص لیا جاوے گا۔خیال رہے کہ اگر بیٹا باپ کو قتل کردے تو اس سے قصاص لیا جاوے گا۔