Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
381 - 1040
حدیث نمبر381
روایت ہے انہی سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا ممکن ہے اﷲ تعالٰی سارے گناہ بخش دے ۱؎ سوائے اس کے کہ جو مشرک مرے یا جو دانستہ مؤمن کو قتل کرے ۲؎(ابوداؤد)اور نسائی نے حضرت معاویہ سے ذکر کی۔
شرح
۱؎ ہر گناہ سے مراد شرک و کفر کے علاوہ گناہ ہیں کیونکہ وہ دونوں لائق بخشش نہیں۔معلوم ہوا کہ حقوق العباد بھی لائق بخشش ہیں کہ رب تعالٰی صاحب حق سے معاف کرادے مگر قتل ناحق لائق بخشش نہیں اسکی ضرور سزا ملے گی الا برحمۃ اﷲ۔

۲؎ قتل مؤمن سے مراد ظلمًا قتل ہے عمدًا قتل کی قید اس لیے لگائی کہ خطاء اور شبہ عمد قتل کا یہ حکم نہیں اسی لیے ان دونوں قتلوں میں قصاص نہیں۔اس حدیث کی بنا پر بعض لوگوں نے گناہ کبیرہ کرنے والے کو کافر مانا ہے اور بعض نے کہا کہ وہ کافر تو نہیں مگر مؤمن بھی نہیں بلکہ فاسق ہے یعنی نہ مؤمن نہ کافر،بعض نے فرمایا کہ وہ ہے تو مؤمن مگر دوزخ میں ہمیشہ رہے گا،مگر مذہب اہل سنت یہ ہے کہ گناہ کبیرہ کرنے والا مؤمن ہی ہے اور اس کی نجات ضروری ہے۔اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو کوئی کسی مسلمان کو ناحق قتل کرے قتل کو حلال جان کر یا اس لیے قتل کرے کہ وہ مؤمن کیوں ہوا وہ دوزخی دائمی ہے لائق بخشش نہیں کہ اب یہ قاتل کافر ہوگیا اور کافر کی بخشش نہیں،یا یہ فرمان ڈرانے دھمکانے کے لیے ہے کہ یہ جرم اسی لائق تھا کہ اس کا مرتکب ہمیشہ دوزخ میں رہتا ہے اور اس کا گناہ بخشا نہ جاتا اگر یہ توجیہیں نہ کی جائیں تو یہ حدیث بہت آیات و احادیث کے خلاف ہوگی۔حضور فرماتے ہیں میری شفاعت میری امت کے گناہ کبیرہ والوں کے لیے بھی ہوگی،رب تعالٰی فرماتاہے اﷲ تعالٰی شرک نہ بخشے گا اس کے سواء جسے چاہے گا بخش دے گا۔
Flag Counter