Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
383 - 1040
حدیث نمبر383
روایت ہے حضرت ابو رمثہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں اپنے والد کے ساتھ آیا تو فرمایا یہ جو تمہارے ساتھ ہے کون ہے ؟ عرض کیا حضور گواہ رہیں کہ یہ میرا بیٹا ہے۲؎ فرمایا آگاہ رہو کہ نہ وہ تم پر جرم کرے گا نہ تم اس پر۳؎ (ابوداؤد،نسائی)اور شرح سنہ میں اس کے اول میں یہ زیادہ فرمایا انہوں نے کہا میں اپنے باپ کے ساتھ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میرے باپ نے وہ چیز دیکھی جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی پیٹھ میں تھی۴؎ عرض کیا مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کی پیٹھ والی چیز کا علاج کردوں کہ میں طبیب ہوں تو فرمایا کہ تم رفیق ہو اﷲ طبیب ہے ۵؎
شرح
۱؎ آپ کا نام رفاعہ ابن یثربی تمیمی ہے،آپ امرؤ القیس کی اولاد سے ہیں۔

۲؎ یا اشہد صیغہ مخاطب امر ہے یعنی حضور گواہ رہیں یا اشہد متکلم مضارع ہے یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ میری پشت سے ہے۔انکا مقصد یہ تھا کہ میں اور یہ چونکہ باپ بیٹے ہیں اس لیے میرے جرم کا یہ ذمہ دار ہوگا اور اس کے جرم کا میں ذمہ دار جیساکہ زمانہ جاہلیت میں مروج تھا اس لیے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ فرمایا جو آگے مذکور ہے۔

۳؎ یعنی تمہارے جرم میں وہ نہ پکڑا جائے گا اور اس کے جرم میں تم نہ پکڑے جاؤ گے،اس کا قصاص تم سے اور تمہارا قصاص اس سے نہ لیا جائے گا یا کل قیامت میں تمہارے گناہ میں وہ نہ پکڑا جائے گا اور اس کے گناہ میں تم گرفتار نہ ہو گے اپنی کرنی اپنی بھرنی ہوگی۔خیال رہے کہ بچہ کے گناہ پر باپ کی پکڑ جب ہوگی جب باپ نے بچہ کی تربیت میں کوتاہی کرکے اسے مجرم بنایا ہو لہذا یہ حدیث دوسری احادیث کے خلاف نہیں۔

۴؎  مہر نبوت جو پشت پر دو کاندھوں کے درمیان پیدائش شریف سے ہی قدرتی طورپر انڈے کے برابر تھی ابھرا ہوا گوشت تھا یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی دلیل تھی، یہ حضرت سمجھے کہ کوئی پھوڑا وغیرہ ہے عارضی بیماری اس لیے وہ عرض کیاجس کا ذکر آگے آرہا ہے۔

۵؎ یعنی یہ چیز قابل علاج نہیں بلکہ تم قابل علاج ہوکہ اس قسم کی گفتگو کررہے ہو اپنے کو شافی الامراض سمجھتے اور کہتے ہو،شافی امراض اﷲ تعالٰی ہے۔خیال رہے کہ یہاں طبیب بمعنی شافی مطلق ہے نہ کہ فن طب سیکھا ہوا لہذا اﷲتعالٰی کو طبیب کہنا شرعًا درست نہیں کہ یہ لفظ طبابت کا پیشہ کرنے والوں پر بھی بولا جاتا ہے جیسے اﷲ تعالٰی کو معلم نہیں کہہ سکتے اگرچہ وہ خود فرماتاہے:"عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ"کیونکہ معلم عمومًا تنخواہ دار مدرسین کو کہا جاتا ہے اور جو لفظ دو معنے رکھتا ہو اچھے اور برے اس کو اﷲ تعالٰی کے لیے استعمال نہیں کرسکتے۔اﷲ تعالٰی کے نام توقیفی ہیں جو نص میں وارد ہوگئے ان ہی سے اسے پکارا جائے۔(مرقات)
Flag Counter