Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
380 - 1040
حدیث نمبر380
شرحرویت ہے حضرت ابوالدرداء سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا مؤمن آدمی جلدی کرنے والا نیک رہتا ہے ۱؎ جب تک کہ حرام خون نہ کرے پھر جب حرام خون لیتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے ۲؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ صالحًا لفظ موقنًاکی تفسیر ہے یا تفصیل یعنی بندہ مؤمن کو نیک اعمال میں جلدی کرنے کی توفیق ملتی رہتی ہے۔خیال رہے کہ توفیق خیر ملنا رب تعالٰی کی خاص مہربانی ہے۔مولانا فرماتے ہیں۔شعر

دستگیر و رہنما توفیق دہ	جرم بخش و عفو کن بکشا گرہ

۲؎ یعنی قتل ناحق کی نحوست سے انسان توفیق خیر سے محروم رہ جاتا ہے۔بلح بلوحًا کے معنے ہیں تھک جانا،محروم رہ جانا،حیران ہوجانا یہ حیرانی دنیا میں تو اس طرح ہوگی کہ اس کے دل کو اطمینان،نیکیوں کی توفیق میسر نہ ہوگی اور خدشہ ہے کہ جوابات قبر میں حیرانی رہ جائے اور ہوسکتا ہے کہ قیامت کے حساب میں حیران و سرگرداں رہے،غرضکہ خون ناحق دنیا و آخرت کا وبال ہے۔خیال رہے کہ ظلمًا قتل کرنا،قتل کرانا،قتل میں مدد دینا،بعد قتل قاتل کی حمایت کرنا سب ہی اس سزا کے مستحق ہیں۔مرقات میں ایک حدیث نقل فرمائی کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جس نے قتل ناحق میں آدھی بات سے مدد دی وہ کل قیامت میں اٹھے گا تو اس کی پیشانی پر لکھا ہوگا آیسٌ من رحمۃ اﷲ یہ اﷲ کی رحمت سے مایوس ہے۔
Flag Counter