Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
379 - 1040
حدیث نمبر379
روایت ہے حضرت ابو امامہ ابن سہل ابن حنیف سے ۱؎ کہ حضرت عثمان ابن عفان نے گھر کے محاصرہ کے دن جھانکا ۲؎ پھر فرمایا تم کو اﷲ کی قسم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کسی مسلمان آدمی کا خون حلال نہیں مگر تین سببوں میں سے ایک سے۳؎ زنا کرنا بعد محصن ہونے کے یا اسلام کے بعد کفر کرنا یا ناحق کسی جان کو قتل کرنا کہ اس کے عوض قتل کیا جائے اﷲ کی قسم میں نے نہ تو جاہلیت میں زنا کیا نہ اسلام میں۴؎ اور جب سے میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے بیعت کی کبھی مرتد نہ ہوا اور نہ میں نے کسی اس جان کو قتل کیا جسے اﷲ نے حرام فرمایا پھر تم مجھے کیوں قتل کرتے ہو ۵؎(ترمذی،نسائی،ابن ماجہ) اور حدیث کے الفاظ دارمی کے ہیں ۶؎
شرح
۱؎ ابو امامہ کا نام سعد ہے،علماء تابعین سے ہیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات شریف سے دو سال پہلے ولادت ہوئی، خود حضور نے ان کا نام اور کنیت تجویز فرمائی،بہت لڑکپن کی وجہ سے زیارت نہ کرسکے،اپنے والد سہل اور حضرت ابو سعید خدری سے روایات لیں،  ۱۰۰ھ؁ میں وفات پائی۔(اشعہ)آپ کے والد سہل ابن حنیف صحابی ہیں،بدر و احد وغیرہ تمام غزوات میں حضور ے ساتھ رہے احد میں حضور کے قریب رہے ثابت قدم رہے اور خلافت علی مرتضٰی میں حضرت علی کی طرف سے مدینہ منورہ کے گورنر رہے، ۸۳ھ؁ ،میں وفات پائی۔(مرقات)

۲؎ یعنی جب مصری و دیگر باغیوں نےآپ کا گھر گھیر لیا ا ورآپ مجبورًا گھر میں مقید ہوگئے تب گھر کی چھت پر کھڑے ہوکر لوگوں کی طرف جھانک کر یہ فرمایا۔

۳؎ اس کلام میں خطاب ان لوگوں سے ہے جوآپ کا گھر گھیرے ہوئے آپ کے قتل کے درپے تھے،چونکہ یہ حدیث سب میں شائع ہوچکی تھی اس لیے آپ نے فرمایا اتعلمون۔

۴؎ یہ حضرت عثمان کا بڑا ہی کمال ہے کہ عرب جیسے ملک میں رہ کر بہت مالدار ہوکر اسلام سے پہلے بھی زنا سے محفوظ رہے ورنہ زمانہ جاہلیت میں تو زنا پر فخر کیا جاتا تھا اﷲ تعالٰی نے اپنے محبوب کے اس صحابی کو زنا سے پہلے ہی سے محفوظ رکھا۔

۵؎ یعنی میرے قتل سے پہلے یہ سوچ لو کہ تم کتنا بڑا گناہ کررہے ہو اور رب تعالٰی کے ہاں اس کا کیا جواب دو گے۔خیال رہے کہ باغی خارجی کو بھی بغاوت یا خروج کی وجہ سے قتل کرنا جائز ہے مگر یہ دونوں چیزیں بہت کم واقع ہوتی ہیں اس لیے ان کا ذکر اس حدیث میں نہیں آیا،نیز بغاوت و خراج شخصی جرم نہیں قومی جرم ہے یہاں شخصی جرم کا ذکر ہے لہذا نہ تو اس حدیث پر کوئی اعتراض ہے نہ یہ حدیث دوسری احادیث کے خلاف۔

۶؎ یعنی الفاظ حدیث دارمی نے نقل فرمائے ورنہ یہ قصہ تو بہت کتب میں مروی ہے۔
Flag Counter